منحرف اور مستعفی لیگی اراکینِ پارلیمنٹ کی’پاور پلے‘ میں گفتگو power play
The news is by your side.

Advertisement

منحرف اور مستعفی لیگی اراکینِ پارلیمنٹ کی’پاور پلے‘ میں گفتگو

اسلام آباد : مسلم لیگ (ن) کے منحرف رکن صوبائی اسمبلی نظام الدین سیالوی نے کہا ہے کہ 10 سے 12 اراکین مستعفی ہونے کو تیار ہیں جس کے لیے استعفے سجادہ نشین حمید الدین سیالوی کے پاس جمع کرادیئے گئے ہیں.

اس بات کا انکشاف مذکورہ رکن صوبائی اسمبلی پنجاب نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں میزبان ارشد شریف سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، نظام الدین سیالوی کا موقف تھا کہ ہمارے استعفوں کا فیصلہ سجادہ نشین حمید الدین سیالوی کریں گے اور وہی ہمارے مستقبل کا فیصلہ کریں گے.

حکمراں رکن صوبائی اسمبلی نظام الدین سیالوی نے مزید کہا کہ 4 سے 5 مزید اراکین اسمبلی نے قانون ختم نبوت میں ترمیم کے بعد ہم سے رجوع کیا ہے اس طرح اگر وہ بھی استعفے دے دیں تو تعداد بڑھ کر 17 تک پہنچ سکتی ہے تاہم استعفی دینے کا کُلی فیصلہ معروف پیر اور سجاد نشین حمید الدین سیالوی کا ہوگا.

ایک سوال کے جواب میں ایم پی اے کا کہنا تھا کہ ہمارے سجادہ نشین کا مطالبہ ہے کہ قانون ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے دوران تبدیلی کے مرتکب شخص کو سامنے لایا جائے تب تک ہم نہ اجلاس میں شرکت کریں گے اور نہ ہی کسی حکومتی اجتماع میں جائیں گے اور اگر حکومت نے بات نہ مانی تو پھر استعفے اسمبلی میں جمع کرادیئے جائیں.

اسی پروگرام میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی میں دوستین خان ڈومکی جو وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی بھی ہیں نے اپنے استعفیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے استعفی اپنےمحکمے کی وجہ سےدیا کیوں کہ این ٹی ایس اور کام سیٹ میں اختلافات تھے جب کہ میرا مطالبہ اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کا تھا لیکن میری سنی نہیں گئی.

دوستین خان ڈومکی کا کہنا تھا کہ چیئرمین کے ہاتھ لمبے ہیں وہ تحقیقات میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں چنانچہ میں نے بورڈ آف گورنرز کو معطل کرکے انکوائری کمیٹی کا حکم دیا لیکن جب تحقیقات شروع کی تو رانا تنویرکو وفاقی وزیر بنا دیا گیا جنہوں نے مجھے کام کرنے نہیں دیا اس لیے احتجاجاً استعفیٰ دینا مناسب سمجھا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں