The news is by your side.

ڈلیوری رائیڈر کا انوکھا کارنامہ : کھانا پہنچانے دوسرے براعظم جاپہنچی، ویڈیو وائرل

ہم نے عام طور پر دیکھا ہے کہ آن لائن فوڈ ڈلیور کرنے والے افراد کم سے کم وقت میں اپنے فرائض انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کے کام کی لگن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ گاہک کو ان کی سروس سے کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ ملے۔

لیکن کیا کبھی آپ نے سنا کہ فوڈ ڈیلیوری کرنے والا رائیڈر ایسے علاقے میں پہنچ گیا ہو جہاں کسی انسان کا موجود ہونا ہی تقریباً ناممکن ہے۔

جی ہاں! ایسا ہی ہے سنگا پور مین ایک خاتون رائیڈر نے ایک گاہک کا آرڈر ایسی جگہ پہنچایا جہاں شاید ہی کوئی جاسکے لیکن حیران کن طور پر اس خاتون نے یہ کارنامہ سرانجام دے دیا۔

سنگاپور میں فوڈ ڈیلیوری کرنے والے خاتون نے کھانا پہنچانے کے لیے سو یا دو سو نہیں بلکہ پورے چار براعظموں پر 30 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے گاہک کو کھانا پہنچادیا۔

مانسا گوپال نامی اس خاتون نے فوڈ ڈیلیوری کے اپنے اس منفرد سفر کی مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جو وائرل ہوگئی۔

وہ سنگاپور سے اپنے ہاتھ میں فوڈ پیکٹ لے کر نکلیں جہاں انہوں نے پہلے یورپ پھر جنوبی امریکا کا سفر کرنے کے بعد دنیا کے سرد ترین براعظم انٹارکٹک جاپہنچی اور آسڈر کرنے والے کو اس کا کھانا دے دیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ 2021 میں وہ انٹارکٹک مہم کے لیے فنڈز جمع کرنا چاہتی تھیں تاہم انہیں کچھ عرصے قبل ایک فوڈ ڈیلیوری کمپنی کا پیغام موصول ہوا جنہوں نے یہ کہا کہ وہ میری اس مہم کو اسپانسر کریں گے جس کے باعث یہ سب ممکن ہو پایا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں