The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان کے بڑے ناموں سے ٹکرانے والی خواتین امیدوار

کوئٹہ: الیکشن 2018 میں صوبہ بلوچستان میں پاکستان کی پہلی اسپیکر صوبائی اسمبلی راحیلہ حمید درانی اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال سمیت 4 خواتین جنرل نشستوں پر بڑے ناموں سے مقابلہ کر رہی ہیں۔

رواں ماہ 25 جولائی کو عام انتخابات منعقد ہونے جارہے ہیں جس کے لیے ملک بھر سے لاکھوں امیدوار میدان میں ہیں۔

عام روایات کی برعکس رواں برس کئی ایسے علاقوں سے خواتین بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں جہاں سے پہلے ان کا حصہ لینا ناممکن نظر آتا تھا۔

ان خواتین کے مدمقابل بھاری بھرکم نام ہیں جو گزشتہ کئی انتخابات میں فتحیاب ہوتے آرہے ہیں تاہم وہ عوام کو ڈیلیور کرنے میں ناکام ہیں۔

مزید پڑھیں: صحرا کی قسمت بدلنے کے لیے تھر کی خواتین اٹھ کھڑی ہوئیں

صوبہ بلوچستان سے بھی اس وقت کچھ خواتین فتح یا شکست سے بے نیاز ہو کر کئی بڑے بڑے ناموں کے مدمقابل کھڑی ہیں۔

کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 265 پر راحیلہ حمید خان درانی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہی ہیں۔

یہ وہ حلقہ ہے جہاں سے محمود خان اچکزئی اور نوابزادہ لشکری رئیسانی جیسی بڑی شخصیات کے علاوہ تحریک انصاف کے قاسم سوری، ایم ایم اے کے حافظ حمد اللہ اور پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر روزی خان کاکڑ سمیت کل 25 امیدوار میدان میں ہیں۔

راحیلہ درانی بلوچستان اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر رہی ہیں۔

انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز مسلم لیگ ق سے کیا اور 2002 کے عام انتخابات میں مخصوص نشست پر بلوچستان صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی۔

مزید پڑھیں: دیر بالا سے عام انتخابات میں حصہ لینے والی پہلی خاتون

سنہ 2013 کے عام انتخابات میں ن لیگ کی خصوصی نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوئیں اور بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار خاتون اسپیکر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی نے سابق وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال کو ضلع کیچ سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 70پر نامزد کیا ہے۔

زبیدہ جلال بی این پی کے جان محمد دشتی جیسے مضبوط امیدوار کے مدمقابل ہیں۔

زبیدہ جلال سنہ 2002 سے 2007 تک وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز رہیں۔

ان دونوں کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے لیے حلقہ پی بی 13 جعفر آباد سے راحت جمالی اور پی بی 32 کوئٹہ سے نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی الیکشن لڑ رہی ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں