صبح 10 بجے سے قبل کام شروع کرنا جسمانی تشدد کے برابر -
The news is by your side.

Advertisement

صبح 10 بجے سے قبل کام شروع کرنا جسمانی تشدد کے برابر

ہم میں سے ہر شخص روز صبح 7، 8 یا 9 بجے سے اپنے اسکول، کالج یا دفاتر میں اپنے کام کا آغاز کردیتا ہے۔ یہ ایک عام رواج ہے جو دنیا بھر میں قانون کی شکل میں رائج ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے ایسا کرنا دراصل خود کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے مطابق صبح 10 بجے سے قبل کام کا آغاز کرنا دراصل جسمانی تشدد کی ایک قسم ہے۔

دراصل ہمارے جسم کے اندر ایک قدرتی خود کار گھڑی نصب ہے جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے۔ یہ گھڑی ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں کس وقت سونا، کس وقت جاگنا، اور ہمارے دماغ کو کس وقت کیا کام کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: کارکردگی میں اضافے کے لیے 3 دن کا ویک اینڈ؟

یہ گھڑی ہمارے جسم کی توانائی اور ہارمونز کے افعال میں باقاعدگی پیدا کرنے کی بھی ذمہ دار ہوتی ہے۔

ہر روز 8 گھنٹے کام کرنے کا اصول 18 ویں صدی میں بنایا گیا جب سرمایہ دار طبقے کا مقصد صرف اور صرف اپنے کاروبار کو وسعت اور ترقی دینا تھا اور اس وقت انسانی جسم کی ضروریات کو بالکل نظر انداز کردیا گیا۔

تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق اگر ہم سورج نکلنے کے بعد اپنے کام کا آغاز کریں تو ہمارا جسم اس وقت کام کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ صبح 10 بجے سے قبل کام کرنا دراصل سوئے ہوئے جسم اور دماغ سے زبردستی کام کروانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی گھڑی کے اوقات کار میں خلل ڈالنا ایسا ہی ہے جیسے کسی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ اس کے بدترین جسمانی و نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سے قبل تحقیقی تجربے کے تحت اسکول کے اوقات کار میں رد و بدل کیا اوربچوں نے صبح 10 بجے کے بعد اپنی پڑھائی کا آغاز کیا۔

مزید پڑھیں: موسیقی سننا ملازمین کی کارکردگی میں اضافے کا سبب

انہوں نے دیکھا کہ عام اوقات کار کے برعکس ان اوقات کار میں بچوں کی ذہنی کارکردگی اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔ بچوں کی حاضری میں اضافہ اور ان کی تعلیمی کارکردگی میں بھی بہتری آئی۔

ماہرین نے تجویز دی کہ اس تحقیق کے نتائج پر غور کرتے ہوئے کام کرنے کے اوقات کار میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچا جائے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں