The news is by your side.

Advertisement

پولیو کا عالمی دن: پاکستان میں انسداد پولیو کے لیے بھرپور اقدامات

دنیا بھر میں آج انسداد پولیو کا عالمی دن منایا جارہا ہے، اس وقت پولیو کا مرض دنیا میں صرف 2 ممالک پاکستان اور افغانستان میں موجود ہے۔

عالمی ادارہ برائے صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پولیو کے کیسز میں 99.9 فیصد کمی آچکی ہے لیکن کرونا وبا کی وجہ سے ہونے والے تعطل سے خدشہ ہے کہ پولیو وائرس کہیں ایک بار پھر سر نہ اٹھا لے۔

کرونا وبا کے آغاز سے پولیو مہمات تعطل کا شکار رہیں اور دنیا سے پولیو کے خاتمے کا ہدف پورا نہ ہوسکا۔

پاکستان میں پچھلے کچھ سالوں میں انسداد پولیو وائرس کے حوالے سے ڈرامائی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

اینڈ پولیو پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پولیو کیسز کی بلند ترین شرح سنہ 2014 میں دیکھی گئی جب ملک میں پولیو وائرس کے مریضوں کی تعداد 306 تک جا پہنچی تھی۔

یہ شرح پچھلے 14 سال کی بلند ترین شرح تھی۔ اس کے بعد پاکستان پر سفری پابندیاں بھی عائد کردی گئیں تھی۔ اسی سال پڑوسی ملک بھارت پولیو فری ملک بن گیا۔

تاہم اس کے بعد عالمی تنظیموں کے تعاون سے مقامی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے جس کے بعد سنہ 2015 میں یہ تعداد گھٹ کر 54 اور سنہ 2016 میں صرف 20 تک محدود رہی۔

سنہ 2017 میں پولیو کے 8 کیسز ریکارڈ کیے گئے، سنہ 2018 میں 12 جبکہ 2019 میں ایک بار پھر پولیو کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا اور 147 پولیو کیسز ریکارڈ ہوئے۔

سال 2020 میں ملک میں 84 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ رواں برس اب تک صرف ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا جو بلوچستان میں سامنے آیا۔

گزشتہ برس کرونا وائرس کی وجہ سے پولیو مہمات متاثر ضرور ہوئیں تاہم اس کے بعد انسداد پولیو کی نئی حکمت عملی اپنائی گئی جس کے بعد سے صورتحال میں نمایاں بہتری آئی، نئی انسداد پولیو حکمت عملی کورونا کی پہلی لہر کے بعد تیار کی گئی، پولیو کی پہلی لہر کے بعد ملک میں بھرپور انسداد پولیو مہم چلائی گئیں۔

پہلی لہر کے بعد روٹین ایمونائزیشن پر خصوصی توجہ دی گئی، سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے دور دراز علاقوں میں روٹین ایمونائزیشن پرتوجہ دی گئی جبکہ انسداد پولیو ٹیکے کی دوسری ڈوز سے بچوں کی قوت مدافعت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

چند روز قبل ملک بھر کے سیوریج کے پانی کے ٹیسٹ کے بعد چاروں صوبوں کے بڑے شہروں کی سیوریج پولیو فری نکلی جبکہ گلگت بلتستان کے گٹرز میں پولیو وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

عالمی ادارہ صحت نے انسداد پولیو کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات کا امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان بہت جلد پولیو فری ملک بن جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں