site
stats
صحت

پاکستان ٹی بی کا شکار پانچواں بڑا ملک

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج تپ دق یا ٹی بی سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 70 ہزار افراد ٹی بی کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔

ٹی بی ایک ایسا مرض ہے جو پھیپھڑوں پر اثرانداز ہوتا ہے اور ہوا کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال لگ بھگ 2 لاکھ 40 ہزار افراد ٹی بی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ٹی بی کے باعث موت کا شکار ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ٹی بی کا مرض دنیا بھر میں ہر روز 5 ہزار جانیں لے لیتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ایک تہائی ٹی بی کے مریضوں میں مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی، یا وہ علاج کی سہولیات سے محروم ہیں۔

کچھ عرصہ قبل جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق ٹی بی کے شکار ممالک میں پاکستان کا نمبر 5 واں ہے۔

تاہم پاکستان نے اس مرض کے خاتمے کے لیے قابل تعریف کوششیں کیں۔

ٹی بی کے خاتمے کی جدوجہد میں پاکستان کو عالمی رول ماڈل تسلیم کیا جاچکا ہے اور سنہ 2016 میں یو ایس ایڈ چیمپئینز آف ٹی بی ایوارڈ بھی پاکستان نے اپنے نام کیا۔

پاکستان میں سنہ 2025 تک تپ دق کی شرح میں 50 فیصد کمی کا ہدف رکھا گیا ہے جس پر کام جاری ہے۔

ٹی بی کیسے لاحق ہوسکتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غربت، غذائی کمی، گندے گھروں میں رہنا اور صفائی کا انتظام نہ ہونا ٹی بی سمیت بہت سی بیماریوں کا آسان شکار بنا دیتا ہے۔

اسی طرح پہلے سے مختلف امراض جیسے ایڈز یا ذیابیطس کا شکار ہونا، اور طویل عرصے تک تمباکو نوشی اور شراب نوشی کا استعمال بھی اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔

ٹی بی کی علامات

اگر آپ اپنے یا کسی اور کے اندر یہ علامات دیکھیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ یہ علامات ممکنہ طور پر ٹی بی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

دو ہفتے سے زیادہ کھانسی یا بخار

بہت زیادہ تھکاوٹ

رات کو پسینہ آنا

بھوک اور وزن کی کمی

کھانسی میں خون آنا

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علامات پر فوری توجہ دے کر ابتدائی مرحلے میں مرض کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top