The news is by your side.

Advertisement

یوم شہدا: مقبوضہ کشمیر میں سخت پابندیاں، وادی میں ہڑتال

سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے رمضان کے احترام کو پامال کرتے ہوئے سری نگر کے مختلف علاقوںمیں سخت پابندیاں نافذ کردی ہیں، حریت قیادت نظر بند جبکہ وادی میں مکمل ہڑتال کا ماحول ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سری نگر کی انتظامیہ نے ایک بیان میں کہاہے کہ سرینگر شہر میں نوہٹہ ،صفاکدل ، رعنا واری ، مہاراج گنج اور خانیارپولیس اسٹیشنوں کی حدود میں آنے والے علاقوں میں پابندیاں نافذ کی گئی ہیں جبکہ تمام سکوں اور کالجوں میں تدریسی سرگرمیاں بھی معطل کردی گئی ہیں۔

عوامی مجلس عمل کے زیر اہتمام ممتاز آزادی پسند رہنماؤں میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون اورشہدائے حول کی شہادت کی برسیوں کے موقع پر جامع مسجد سری نگر سے مزار شہداءعید گاہ تک ریلی نکالی گئی۔

ادھر انتظامیہ نے حریت رہنماؤں میر واعظ عمر فاروق اور انجینئر ہلال احمد وار کو جامع مسجد سرینگر سے مزار شہدا عید گاہ تک ریلی کی قیادت سے روکنے کے لیے پیر کی شام کو ہی گھروں میں نظربند کردیا تھا۔

دریں اثناء ممتاز آزادی پسند رہنماؤں میر واعظ مولوی محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی لون اورشہدائے حول کے علاوہ 1990کی دہائی کے ہزاروں شہداءکی یاد میں منگل کو مکمل ہڑتال کی گئی ۔

ہڑتال کی کال حریت قیادت نے میر مولوی محمد فاروق، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کے یوم شہادت کے موقع پر دی تھی۔یا د رہے کہ میر واعظ مولوی محمد فاروق کو 21مئی 1990 کو نامعلوم مسلح افراد نے سری نگر میں ان کی رہائش گاہ میں گھس کر گولی مار دی تھی جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔

بھارتی فوجیوں نے اسی دن سری نگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 70 سوگواروں کو قتل کر دیا تھا۔ دوسری جانب خواجہ عبدالغنی لون کو 21مئی 2002 کو نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت شہید کر دیا تھاجب وہ مزار شہداءسرینگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد واپس آرہے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں