site
stats
صحت

زرد غذائیں آپ کو خوش رکھنے کا سبب

آپ زرد رنگ کو کس بات کی علامت سمجھتے ہیں؟ اگر آپ شعر و ادب پڑھنے کے شوقین ہوں گے تو شاید آپ بھی زرد رنگ کو اداسی اور بربادی کی علامت سمجھتے ہوں۔

لیکن سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ زرد یا پیلا رنگ دراصل خوشی اور اطمینان کا سبب بنتا ہے۔

مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طبی و سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیلا رنگ ہمارے دماغ میں خوشی کی لہریں پیدا کرتا ہے۔ یہ دماغ کے اس حصہ پر اثر انداز ہوتا ہے جہاں سے جسم کو خوشگوار کیفیات میں مبتلا کرنے والے کیمیائی عناصر خارج ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زرد رنگ ہمارے جسم میں خوشگوار کیفیت پیدا کرنے والے ہارمونز کی تشکیل کا سبب بھی بنتا ہے۔

مزید پڑھیں: سبزیاں اور پھل کھائیں، خوش رہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پیلا رنگ کھانے پینے، خاص طور پر پھلوں میں استعمال کیا جائے تو یہ جسم پر نہایت خوشگوار طبی اثرات مرتب کرتا ہے۔

سائنسی تحقیق کے علاہ ماہرین نے مختلف سروے بھی کیے جس میں انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ کس رنگ کا کھانا دیکھ کر وہ خوش ہوتے ہیں۔ سروے کے نتائج کے مطابق 1000 افراد میں سے 70 فیصد لوگوں نے زرد کھانے کو دیکھ کر خوشگوار کیفیات میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی۔

mango

ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ زرد رنگ کے (نمکین) کھانے عموماً کم نمک مرچ والے ہوتے ہیں جو طبیعت پر گراں نہیں گزرتے۔

food-2

اس کے برعکس سبز اور سرخ رنگ کے کھانے دیکھتے ہی ایسے کھانوں کا خیال آتا ہے جو مرچ مصالحہ سے بھرپور اور مرغن ہوں۔

مرغن اور تیز مرچ کے کھانے نہ صرف نظام ہاضمہ پر بوجھ بنتے ہیں جبکہ دماغ کو بوجھل اور منفی جذباتی کیفیات جیسے غصہ، تناؤ اور چڑچڑاہٹ پیدا کرنے کا سبب بھی بنتے ہیں۔

food-3

ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ اگر آپ کا فریج زرد رنگ کے پھلوں جیسے آم، کیلا، اور پائن ایپل وغیرہ سے بھرا ہوگا تو فریج کھولتے ہی آپ کو ایک سکون اور خوشی کا احساس ہوگا، بہ نسبت اس کے کہ فریج کھولتے ہی آپ کا سامنا جنک فوڈ سے ہو۔

banana

تو پھر کیا خیال ہے، آپ اب کس رنگ کو فوقیت دیں گے؟


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top