The news is by your side.

نادرا کی لاپروائی، نوجوان نے عدالت کا رُخ کرلیا

نادرا نے کراچی کے ایک شہری کے ریکارڈ پر دو نام درج کردیے ہیں ریکارڈ کی درستگی کیلیے نادرا دفتر کے چکر لگا کر جوتیاں گھسانے کے بعد متاثرہ شخص عدالت پہنچ گیا۔

نادرا حکام کے کارنامے آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں نیا کارنامہ یہ ہے کہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے کراچی کے ایک یتیم نوجوان کے ریکارڈ پر دو نام مختلف نام درج کردیے ہیں جس کی درستگی کے لیے وہ کئی ماہ سے نادرا دفاتر کے چکر کاٹ رہا تھا شنوائی نہ ہونے پر اس نے عدالت کا رُخ کرلیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق نادرا کی غیر ذمے داری کا شکار کراچی کا نوجوان شہری ہے اور سرکاری ریکارڈ میں نام کی تصیح اس یتیم نوجوان کے لیے درد سر بن گئی۔ ایف آر سی میں نانی کے نام کی تصیح میں 8 ماہ میں بھی نہ ہوسکی ہے۔

متاثرہ نوجوان نے اپنی شکایت کے ازالے کے لیے متعلقہ دفتر کے چکر کاٹ کاٹ کر چپلیں گھسانے کے باوجود ناکامی کے بعد سرکاری ریکارڈ میں اپنے نام کی تصیح کے لیے عدالت سے رجوع کیا جس پر کراچی کی سول عدالت نے نادرا حکام کو درخواست گزار کی نام کی تصیح کا حکم دیا ہے۔

متاثرہ نوجوان کی جانب سے سول کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ نادرا حکام نے ایف آر سی میں انگریزی میں حاجرہ بیگم اور اردو میں صفیہ لکھ دیا۔ نادرا حکام سے متعدد بار رابطے اور دفاتر کے چکر کاٹنے کے باوجود نام کی تصیح نہیں ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نادرا کی چھوٹی سی غلطی سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نادرا حکام اپنی ٹائپنگ کی غلطی ماننے کے بجائے اس کے موکل کو بھی چکر لگواتے رہے لیکن درستگی نہیں کی گئی۔ نام کی غلطی کی بنا پرمستقبل میں قانونی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

سول جج نے نادرا حکام کو نوجوان کا ریکارڈ درست کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں