The news is by your side.

Advertisement

زاہدہ پروین جنھیں اسٹوڈیو میں‌ بیڑی پینے کی اجازت تھی

صوفیانہ کلام اور طرزِ گائیکی میں “کافی” ایک مشکل مگر نہایت مقبول صنف ہے۔ پاکستان میں زاہدہ پروین نے اس صنفِ سخن کو اپنی آواز اور منفرد انداز سے اس طرح نبھایا کہ اس فن کی ملکہ کہلائیں‌۔

اس مشہور مغنیہ نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم استاد بابا تاج کپورتھلہ والے سے حاصل کی، استاد حسین بخش خاں امرتسر والے سارنگی نواز سے گائیکی کے رموز سیکھے، اور بعد میں‌ استاد عاشق علی خان پٹیالہ والے کی شاگرد بنیں۔

زاہدہ پروین کی وجہِ شہرت خواجہ غلام فرید کی کافیاں ہیں۔ وہ ان کے کلام کی شیدا تھیں اور ان سے بہت عقیدت اور لگائو رکھتی تھیں۔ معروف شاعرہ اور ادیب شبنم شکیل نے زاہدہ پروین کے بارے میں لکھا ہے:

”زاہدہ جن کو آج کل کے لوگ شاہدہ پروین کی والدہ کی وجہ سے جانتے ہیں، بہت بڑی گلوکارہ تھیں۔ انھیں کافیاں، غزلیں، گانے اور نیم کلاسیکل میوزک پر گہرا عبور حاصل تھا۔ آپ نے ان کے کئی گانے سنے ہوں گے۔ ایک تو سلیم گیلانی کا ”بیتی رُت نہ مانے عمریا بیت گئی“ پھر سیف صاحب کی مشہور غزل ”مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کے روئے“ اور ایک کافی کیا حال سناواں دل دا، کوئی محرم راز نہ ملدا ایسی لازوال چیزیں انھوں نے اور بھی بہت سی گائیں۔

وہ ایک درویش عورت تھیں اور معمولی سے کپڑے پہن کر ریڈیو آ جاتی تھیں۔ شکل و صورت کی بھی بہت ہی معمولی تھیں۔ گہرا سانولا رنگ، چھوٹا سا قد لیکن جب وہ گانا گاتی تھیں تو دنیا مسحور ہو جاتی تھی۔

آپ کو ایک راز کی بات بتاتی چلوں، آپ جانتے ہوں گے کہ اسٹوڈیو کے اندر جب مائیک آن ہو تو پانی کا گلاس تک نہیں آسکتا تھا۔ زاہدہ پروین واحد خاتون تھیں جنھیں اجازت تھی کہ وہ اسٹوڈیو میں بیٹھ کر بیڑی پی سکتی تھیں۔ وہ پہلے بیڑی کا کش لگاتیں اور پھر گانا شروع کرتیں۔

پروڈیوسر کے لیے یہ سارا بہت رسکی معاملہ تھا، لیکن وہ لوگ کسی قیمت پر بھی ایسی باکمال فن کارہ کو چھوڑ نہیں سکتے تھے۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں