The news is by your side.

Advertisement

زینب قتل کیس، فوٹیج والے شخص سے مشابہہ مشتبہ شخص گرفتار

لاہور : زینب قتل کیس میں لاہور پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا ہے ، گرفتار شخص سی سی ٹی وی فوٹیج والے شخص سےمشابہت رکھتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق زینب قتل کیس میں کئی مشتبہ افراد حراست میں لئے گئے مگرپنجاب پولیس کے ہاتھ مجرم تک نہ پہنچ سکے، لاہور میں شمالی چھاؤنی سے ایک اور مشتبہ شخص کو گرفتارکرلیا گیا۔

پولیس کے مطابق زیرحراست مشتبہ شخص جاری کردہ خاکےسےمشابہت رکھتاہے۔

لاہورپولیس نے مشتبہ شخص کو قصور پولیس کے حوالے کردیا ہے، مشتبہ شخص کے خلاف تحقیقات جاری ہے، گرفتار مشتبہ شخص سےمتعلق جیوفینسنگ رپورٹ آگئی۔

رپورٹ کےمطابق واقعےکے روز گرفتارشخص کی لوکیشن قصورمیں پائی گئی، مشتبہ شخص کا ڈی این اے،پولی گرافک ٹیسٹ آج کیا جائےگا۔

دوسری جانب زینب قتل کےحوالے سےمزید سترافرادکےڈی این اے حاصل کر لئے گئے ہیں۔


مزید پڑھیں :  زینب قتل کیس، 4جنوری کی ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر


خیال رہے کہ ایک نہیں دو نہیں چار سی سی ٹی فوٹیج منظر عام پر آئی لیکن پولیس زینب کے قاتل کو ڈھونڈ نہ سکی، تمام شواہد کے باوجود قاتل آزادگھوم رہا ہے۔

گذشتہ روز سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت پر چیف جسٹس نے کہا قاتل گرفتارنہ ہواتو ذمہ دارپولیس ہوگی، ملزم سیریل کلر ہےزیادہ وقت نہیں دےسکتے۔اصل ملزم چاہئے۔

یاد رہے اس سے قبل بھی سی سی ٹی وی فوٹیج سے مشابہت رکھنے والا ایک شخص پکڑا گیا تھا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا تھا۔

زینب قتل کیس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے مزید 48 گھنٹے کی ڈیڈلائن دیدی ہے جبکہ قصور میں اب تک دو سو سے زائد مشتبہ افرادکا ڈی این اےٹیسٹ کرایاگیا اور شہریوں کی چیکنگ بھی جاری ہے۔


مزید پڑھیں : زینب قتل کیس : مشابہت رکھنے والے شخص کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا


واضح رہے کہ قصور میں 7 سالہ زینب 5 جنوری کی شام ٹیوشن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی تھی اور پانچ دن بعد اس کی لاش کچرا کنڈی سے ملی تھی، بچی کی لاش ملنے پر قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔

سات سالہ زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی اور بتایا گیا تھا زینب کو زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا جب کہ زینب کی نازک کلائیوں کو بھی تیز دھار آلے سے کاٹنے کی کوشش کی گئی اور بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی نمایاں تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں