اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے! -
The news is by your side.

Advertisement

اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے!

آپ نے ’آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘ والی کہاوت تو ضرور سنی ہوگی، لیکن آج ہم آپ کو اس کی عملی مثال دکھاتے ہیں۔

نیشنل جیوگرافک کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی ایک زیبرا کی حیرت انگیز جدوجہد کی ویڈیو آپ کو سوچنے پر مجبور کردے گی کہ چاہے انسان ہو یا جانور، اپنے لیے کتنی ہی جدوجہد کرلے، لیکن وہ قسمت کے لکھے سے بچ نہیں سکتا۔

زیر نظر ویڈیو ایک زیبرا کی ہے جو دریا کے بیچ میں کھڑا ہوا کنارے کی طرف جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اچانک اس کے قریب پانی میں کچھ ہلچل ہوتی ہے جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ایک مگر مچھ اسے اپنے جبڑوں کا نشانہ بنانے کے لیے زیبرا کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مگر مچھ کی موجودگی محسوس ہوتے ہی زیبرا چھلانگیں لگاتا ہوا اور پوری قوت صرف کرتا پانی سے باہر کنارے پر پہنچ جاتا ہے۔

لیکن ہائے ری قسمت، کنارے پر پہنچ کر ابھی وہ سانس بھی نہیں لینے پاتا، کہ جھاڑیوں میں گھات لگائے ایک شیرنی اس پر حملہ آور ہوجاتی ہے اور موت کو چکمہ دے کر بھاگنے والا زیبرا اس بار نہیں بچ پاتا۔

شیرنی اس پر حملہ کر کے اسے نیچے گرا لیتی ہے، اس دوران ایک اور شیرنی بھی اپنے ساتھی کی مدد کے لیے شکار کی دعوت اڑانے پہنچ جاتی ہے، یوں موت سے بھاگتا زیبرا بالآخر تمام تر جدوجہد کے باوجود اسی وقت موت کا شکار ہوجاتا ہے، جو وقت اس کا لکھا گیا تھا۔

اس حیرت انگیز ویڈیو کو دیکھ کر ہمیں تو غالب کا ایک شعر یاد آگیا۔

پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے،
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے!


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں