The news is by your side.

Advertisement

زلفی بخاری کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست خارج

لاہور: سپریم کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ زلفی بخاری بطور وزیر کام نہیں کر سکتے البتہ معاون خصوصی کی حیثیت سے کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی دہری شہریت کے کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون ہے زلفی بخاری، اس کی کیا اہلیت ہے۔ کہاں سے آیا اور اچانک تعیناتی کیسے کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں تو جید لوگوں کو لگانا چاہیئے تھا۔ ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر تعیناتی کا عدالت جائزہ لے گی۔

وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ معاون خصوصی وہ لگ سکتا ہے جسے وزیر اعظم کا اعتماد حاصل ہو۔ معاون خصوصی کی اہلیت پر تو سوال بھی نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ابھی بتاتے ہیں عدالتی دائرہ اختیار کیا ہے۔

وکیل نے کہا کہ زلفی بخاری کی وجہ سے برٹش ایئر ویز پاکستان آئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ برٹش ایئر ویز کو لانے سے بہتر تھا پی آئی اے کو فعال کرتے۔

وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالتیں انتظامیہ کے بہت سے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وزیر اعظم کو لامتناہی اختیارات دیے جا سکتے ہیں؟ دیکھنا یہ ہے کہ معاون خصوصی کا عہدہ آئین سے متصادم تو نہیں۔ آپ کو ثابت کرنا ہوگا آپ کا تقرر آئین کے مطابق ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ آئینی اجازت نہیں تو زلفی بخاری کیسے وزیر کا عہدہ استعمال کر رہے ہیں جس پر اعتزاز احسن نے بتایا کہ زلفی بخاری کے پاس وزیر کا عہدہ ہے نہ انتظامی اختیارات۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے زلفی بخاری کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست خارج کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ زلفی بخاری بطور وزیر کام نہیں کر سکتے البتہ معاون خصوصی کی حیثیت سے کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہری شہریت کسی کے معاون خصوصی بننے کی راہ میں رکاوٹ نہیں، زلفی بخاری نے اختیارات سے تجاوز یا بطور وزیر کام کیا تو پھر دیکھ لیں گے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 18 ستمبر کو زلفی بخاری کو معاون خصوصی برائے اوور سیز پاکستانی مقرر کیا تھا تاکہ وہ سمندر پار بسنے والی پاکستانیوں کے مسائل اور معاملات میں وزیر اعظم کی معاونت کریں۔

زلفی بخاری کو سرکاری عہدہ ملنے کے بعد 26 ستمبر کوسپریم کورٹ میں ان کی اہلیت چیلنج کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ زلفی بخاری دہری شہریت رکھتے ہیں، وہ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے کے اہل نہیں ہیں۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ زلفی بخاری غیر قانونی طور پر وزیر کے طور پر کام کر رہے ہیں، زلفی بخاری دہری شہریت کے باعث اس عہدے کے اہل نہیں۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر زلفی بخاری نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ وہ برطانیہ میں پیدا ہوئے، شہریت بعد میں حاصل نہیں کی، انہوں نے برطانوی شہری ہوتے ہوئے بھی پاکستانی شہریت حاصل کی۔

زلفی بخاری نے بتایا تھا کہ 13 سے 18 سال کی عمر تک انہوں نے اسلام آباد کے اسکول سے تعلیم حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم برطانوی یونی ورسٹی برونیل سے حاصل کی۔

اپنے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خاندان کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے ہے، وہ رکن پارلیمنٹ نہیں لہٰذا آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ان پر نہیں ہو سکتا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں