The news is by your side.

Advertisement

چودھری محمد سرور نے پی ٹی آئی میں شمولیت کی تردید کردی

لاہور : سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ قبضہ مافیا سے جان چھڑانے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے، وہ کبھی مسلم لیگ نون کا حصہ نہیں رہے۔

برطانیہ سے واپسی پر سیاسی لائحہ عمل کا اعلان جلد کرینگے۔ لاہور میں فارم ہاؤس پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا کہنا تھا کہ وہ دوستوں سے مشاورت کیلئے برطانیہ جا رہے ہیں، ون وے ٹکٹ لے کر نہیں جا رہے۔

جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہی ہو گا، 10 فروری کو وطن واپسی پر آئندہ سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں سابق گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک اںصاف میں شمولیت کے حوالے سے تمام خبریں بے بنیاد ہیں، میرا ایسسا کوئی ارادہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا، مسلم لیگ نون کا رکن تھا نہ اب ہوں۔ سیاست میں رواداری اور ایشوز پر توجہ دینی چاہیئے۔

جیسی جمہوریت پوری دنیا میں ہے، پاکستان میں کہیں نظر نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ایشوز کی بجائے ذاتی حملوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ حکومت توانائی کے بحران پر قابو نہیں پا سکی، 2 کروڑ 30 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔

حکومت کی ناکامی ثابت کرنے کیلئے یہی کافی ہے۔ چودھری سرور کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے پاس بھی مسائل کا کوئی حل نظر نہیں آتا، اپوزیشن کو شیدو منسٹرز بنانے چاہیئیں۔

جو اقتدار میں آنے پر پالیسیاں بنائیں لیکن یہاں حکومت میں آنے کے بعد وزارتوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سابق گورنر نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف ملنا چاہیئے، 5 سال بعد بھی لندن پلان کا حصہ ثابت ہو گیا تو وہ سزا کیلئے تیار ہوں گے۔

یہاں قبضہ مافیا کی سرپرستی کوئی نہ کوئی بڑا آدمی کرتا ہے، صرف سیاستدانوں کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں، قبضہ مافیا کیخلاف قانون سازی کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں 80 قابض اور 20 فیصد مالک کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں