The news is by your side.

Advertisement

"حکومت پیکا ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کے لیے تیار ہے”

اسلام آباد: حکومت نے پیکا آرڈیننس واپس لینے کا عندیہ دے دیا، ، اٹارنی جنرل نے عدالت میں تسلیم کیا کہ یہ کیس ہم سب کی غلطی سے ہوا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس کےخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سمیت صحافی محسن بیگ کے وکیل ایڈوکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کہا کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس موجودہ حالت میں مسلط کیاجائےتو ڈریکونین قانون ہوگا، حکومت اسے واپس لینےکو تیار ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مین اسٹریم یا پرنٹ میڈیا کوپیکا ایکٹ سے ریگولیٹ کرنےکی ضرورت نہیں، معاملےکو واپس کابینہ بھیج کر متعلقہ افراد سےرائےلی جاسکتی ہے، انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ پی ایف یو جے ،پی بی اے اور دیگر کےساتھ بیٹھ کر معاملات حل کریں گے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم کی خصوصی ہدایات پر اس کیس کادفاع کررہا ہوں، یہ کیس ہم سب کی غلطی سے ہوا۔

دوران سماعت عدالت نے اٹارجی جنرل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ملک کو کدھر لیکر جانا چاہتے ہیں کہ کوئی تنقید نہ ہو، قانون کس کے تحفظ کے لیے بنا؟ ایسی ترمیم کرلی کہ کل سی ڈی اے شکایت کرے گی کہ کرپشن کا الزام لگایاگیا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ صرف ایک ہی ہے کہ پوری دنیا میں فوجداری مقدمات ختم ہوئےہیں، درخواست گزاروں نے سیکشن 20کوچیلنج کیا ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ پہلے میرا خیال تھا کہ پھانسی کی سزا نہیں ہونی چاہیے،جس طرح کچھ کیسز میں پھانسی ضروری ہے اسی طرح کچھ میں سزا ہونی چاہیے، 7دن کی بچی کوگولی مارنا،بچوں کے ریپ جیسے کیسز میں پھانسی ہونی چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں