The news is by your side.

Advertisement

لیبیا: اپریل کے آغاز سے اب تک 121 افراد ہلاک ہوچکے ہیں: ڈبلیو ایچ او

طرابلس: عالمی ادارہ برائے صحت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبیا میں جاری جنگی صورت حال کے نتیجے میں رواں ماہ کے آغاز سے اب تک 121 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لیبیا کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے لیے جنرل خلیفہ حفتر کی فورسز اور نو منتخب جمہوری حکومت کے درمیان گمسان کی لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ لیبیا میں اس ماہ کے دوران اب تک121 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ایک ترجمان نے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ جنگی سردار خلیفہ حفتر کی جانب سے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرنے کی کارروائی شروع کرنے کے بعد یہ ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے زخمیوں کی تعداد ساڑھے پانچ سو سے زائد بتائی ہے، ڈبلیو ایچ او نے طرابلس کے لیے ادویات بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہاں پر طبی امدادی عملے کی تعداد بھی بڑھائی جا رہی ہے، عالمی ادارہ صحت نے امدادی کارکنوں اور ان کے قافلوں کو تواتر کے ساتھ نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتیرس طرابلس پر حملہ نہ کرنے کے حوالے سے لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر سے جو اپیل کی تھی اس کا مثبت جواب نہیں آیا، اب بھی وقت ہے اور طرابلس پر کنٹرول کے لیے جاری معرکے کو پرتشدد اور خون ریز بننے سے روکا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ کا لیبیا میں جاری لڑائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے مطابق لیبیا کو انتہائی خطرناک صورت حال کا سامنا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ لڑائی کی کارروائیوں کو مکمل طور پر روکے جانے سے پہلے سنجیدہ نوعیت کی سیاسی بات چیت کا دوبارہ آغاز ممکن نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں