The news is by your side.

Advertisement

سال 2015: پہیے سے سفرشروع کرنے والا انسان ستاروں سے آگے نکل گیا

انسانی ایجادات کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ تاریخِ انسانی، کہا جاتا ہے کہ آگ اورپہیے کی ایجادات تاریخ میں سب سے اہم حیثیت کی حامل ہیں تاہم رواں سال کچھ ایسی ایجادات مورض وجود میں آئی ہیں جو کہ انسانی ارتقاء میں انتہائی اہم کرداراداکریں گی۔


 – ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں –


 زمین جیسی کسی اوردنیا کی تلاش سائنسدانوں کا مرغوب موضوع ہے اوربالاخر کئی سالوں کی محنتِ شاقہ کے بعد سائنسداں ایک ایسی دنیا تلاشنے میں کامیاب ہوہی گئے ہیں۔

کیپلر 452 نامی کہکشاں میں واقع ہے اور اس کا نام Earth 2.0 رکھا گیا ہے۔

اس سیارے اور ہماری زمین میں کئی مماثلتیں ہیں جن مدارکا قطر، سورج اور سال کا دورانیہ شامل ہیں جس کے سبب سائنسدان اس سیارے پر زندگی کے آثار کے بارے میں پرامید ہیں۔

فی الحال اس سیارے تک پہنچنا سائنسدانوں کے لئے کسی عظیم مسئلے سےکم نہیں کیونکہ یہ سیارہ زمین سے 1400نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے جو کہ کھربوں میل بنتا ہے۔


 – مریخ پرپانی کی دریافت –


امریکیخلائی ادارے ناسا نے مریخ کی سطح پر بہتے پانی کے ٹھوس شواہد ملنے کا اعلان کیا ہے۔

ناسا کی جانب سے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران محقق لیوجنڈرا اوجھا نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ زمین کے بعد اب مریخ نظام شمسی کا واحد سیارہ ہے جس کی سطح پر پانی کے بہنے کے شواہد ملے ہیں۔

اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نمک کی چند اقسام کی موجودگی کی وجہ سے مریخ پر پانی کے ابلنے کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے یہ پانی سیال شکل میں موجود ہے۔

سائنسدانوں کے بقول اس سیارے کا درجہ حرارت سیال برکلوریٹ ملے پانی کے لیے سرما اور بہار کے دنوں کے لیے ٹھیک ہے۔


 – ایچ آئی وی ویکسین –


ایچ آئی وی اور ایڈز کے خلاف دہائیوں سے جاری جنگ بالاخرسال 2015 میں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی جب سائنسداں ایک ایسی ویکسین ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئے جو کہ ایچ آئی وی ٹائپ 1 اور ایچ آئی وی ٹائپ 2 اور ایس آئی وی کے خلاف موثرہے۔

اس ویکسین کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ویکسینیشن کے مروجہ طریقہ کار کے ذریعے جسم میں کمزور جراثیم داخل کرکے نظامِ مدافعت کو قوت، مدافعت نہیں سکھائی جاتی بلکہ یہ انسانی ڈی این اے میں کچھ ایسی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے کہ جو اس مہلک اور جان لیوا بیماری کے خلاف لڑنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔

فی الحال یہ تحقیق اپنے ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے نتائج اس قدرحوصلہ افزا ہیں کہ امکان ظاہرکیا جارہا ہے کہ یہ موذی مرض ہارجائے گا اورانسانی عقل فاتح عالم قرارپائے گی۔


 – تیس سال بعد نئی انٹی بایوٹک دوا کی دریافت –


گزشتہ کئی دہائیوں سے ماضی کے سائنسدانوں کی کاوشوں کی بدولت تیار کی جانے والی اینٹی بایوٹیک ادویات انسانی صحت کی ضامن رہی ہیں تاہم 50 اور 60 کی دہائی اور 1987 کے بعد اس سلسلے میں کوئی نئی دریافت نہ ہونا سائنسدانوں ک لیے تشویش کا باعث تھا لیکن اب ان کی پریشانی ختم ہوئی اور 3 عشروں بعد نئی اینٹی بایوٹیک دوا تیار کر لی گئی ہے جسے میڈیکل سائنس میں ایک اہم دریافت قراردیا جارہا ہے۔

امریکا کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی بوسٹن کے سائنسدان کئی دہائیوں سے مختلف تجربات سے ایسے اینٹی بیکٹریا دوا بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے جو نئی پیدا ہونے والی بیماریوں اور انفکیشن کے جراثیم کو قابو کرسکیں اور بالآخر ان کی کوشش رنگ لے آئی اور انہوں ’ٹیکسوبیکٹم‘ نامی اینٹی بایوٹیک دریافت کرلی جو بیکٹریل انفیکشن تپ دق، خون میں گندگی پیدا کرنے والے جراثیم اور سی ڈف کے خلاف انسانی جسم میں مزاحمت پیدا کرے گی


 – ہمارے 25 لاکھ سال پرانے اجداد –


انسانیت کے گہوارے جنوبی افریقہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ انسان سے مطابقت رکھنے والی ایک قدم مخلوق بھی اپنے مردوں کو دفنانے کا فن جانتی تھی۔

تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے کچھ فاصلے پرواقع قدیم انسانی آبادیوں کے آثارقدیمہ کے مرکز’اسٹرک فونٹین‘اور’سوارٹ کرانز‘ کی ایک غار سے ملنے والے ڈھانچوں نے انسانی ارتقاء کی تاریخ پر نئی بحث کا آغاز کردیا ہے۔

اس نئی نوع کو سائنسدانوں نے ’ہومونالیدی‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ نام اسے ’رائزنگ اسٹار‘ نامی اس غارکا نام ہے جہاں سے یہ دریافت ہوئی ہے۔ افریقہ کی سیسوتھو زبان میں نالیدی ستارے کو کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے فی الحال اس نوع کے زمین پر رہنے کے دور کا اندازہ لگانا دشوارہے لیکن انکی جسمانی ساخت اور اعضا کی ہیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ زمین پر لگ بھگ 25 لاکھ سال قبل چلتی پھرتی ہوگی اور اپنے روزمرہ کے امور انجام دیتی ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں