The news is by your side.

Advertisement

دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے سے متعلق منتظمین کا اہم فیصلہ

لاس اینجلس: کرونا وبا کے باعث فلمی دنیا کے سب سے بڑے میلے آسکر ایوارڈ کو کس طرح آرگنائز کیا جائے؟، اس حوالے سے منتظمین نے بڑا فیصلہ کرلیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق آسکر دو ہزار اکیس کی تقریب ورچوئل کی بجائے افراد کی موجودگی میں ہوگی، اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹس اینڈسائنس اور اے بی سی ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے اس کی تصدیق کی ہے کہ آسکر ایوارڈز کی تقریب ورچوئل نہیں بلکہ اپنے روایتی انداز میں ہوگی۔

امریکہ کی تفریحی صنعت کے میگزین ورائٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نےاس امید کے ساتھ کہ موسم بہار میں تھیٹر دوبارہ کھل جائیں گے تہترویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب کی تاریخ میں مزید توسیع کرتے ہوئے پچیس اپریل دو ہزار اکیس مقرر کی تھی، جس کا مقصد یہ تھا کہ مزید فلموں کو ایوارڈز مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع مل سکے۔

اس سال آسکر ایوارڈز کی تقریب ڈولبی تھیٹرز میں منعقد کی جائے گی جہاں پر ساڑھے تین ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئندہ سال اپریل تک کرونا کے پھیلاؤ میں نمایا ں کمی ہوجائے گی اور تب تک سینما گھر بھی کھل جائیں گے، تاہم اس بار کتنے لوگوں کو شرکت کی اجازت دی جائے گی یہ بات تاحال غیر واضح ہے ۔

واضح رہے کہ آسکر کی بہترین فلموں کے لیے فورڈ ورسز فیراری، دی آئرش مین، جوجو ریبٹ، جوکر، لٹل ویمن، میریج اسٹوری، 1917، ونس اپن اے ٹائم نے ہولی ووڈ اور پیراسائیٹ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بہترین اداکار، اداکارہ، معاون اداکار، میوزک، ڈائریکٹر، سنیماٹوگرافی اور کاسٹیوم ڈیزائن وغیرہ کے لیے بھی تقریباً ان ہی فلموں سے تعلق رکھنے والوں کو نامزد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آسکر ایوارڈ: کامیاب اداکاروں کیلئے کروڑوں روپے کے تحائف

یاد رہے کہ پاکستانی نژاد کینیڈین اداکار علی کاظمی اور اداکارہ مہر جعفری کی فلم ’فنی بوائے‘ کو بھی آسکر ایوارڈ 2021 کے لیے نامزد کیا جاچکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں