The news is by your side.

Advertisement

کابل سے کیسے فرار ہوا؟ سابق برطانوی فوجی کے سنسنی خیز انکشافات

کابل: افغان طالبان کے قبضے کے بعد سابق برطانوی فوجی لائیڈ کامر کابل سے کیسے فرار ہوئے؟ انہوں نے فرار کے لئے کون سا طریقہ اختیار کیا؟ جانئے چشم کشا انکشافات، خود ان کی زبانی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لائیڈ کامر کی عمر برس برس ہے، یہ برطانوی فوج سے ریٹائرڈ ہیں، انہوں نے پینتیس سال فوج کے لئے خدمات پیش کیں، تاہم طالبان کے کابل پر قبضے سے قبل وہ ایک نجی شعبے سے وابستہ تھے۔

طالبان کے ملک میں داخلے کے بعد برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے شہریوں کو ائیرپورٹ سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن لائیڈ نے تمام ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک سے جلد از جلد فرار ہونے کا حل نکالا۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لائیڈ کامر نے بتایا کہ اگر میں دفتر خارجہ کے احکامات مانتا تو شاید آج زندہ نہ ہوتا، اسی لیے میں نے قمیض شلوار پہنی اور سر پر رومال ڈال کر بھیس بدلا اور افغان باشندوں میں گھس کر حامد کرزئی ائیرپورٹ کا سفر شروع کیا۔

سابق فوجی نے بتایا کہ ایئر پورٹ تک پہنچنے کے راستے میں تین طالبان چوکیوں کو عبور کیا جہاں ہماری تلاشی بھی لی گئی، مجھے نہیں معلوم کہ اگر طالبان میری اصلیت جان لیتے تو میرے ساتھ کیا سلوک کرتے، لائیڈ نے مزید بتایا کہ ہوٹل پہنچ کر برطانوی فوجی افسران سے رابطہ کیا اور وہاں موجود دیگر برطانوی شہریوں کے ہمراہ ائیرپورٹ کے داخلی دروازے پر پہنچ گیا۔

بعد ازاں ایئر پورٹ سے سی 17 طیارے پر سوار ہوکر متحدہ عرب امارات پہنچا، جہاں سے اپنے گھر کی پرواز پر سفر کیا، سابق برطانوی فوجی لائیڈ کامر نے کہا کہ بحفاظت برطانیہ واپسی کے چار دن بعد دفتر خارجہ کی طرف سے کال موصول ہوئی جس میں پوچھا گیا کہ کیا آپ اب بھی کابل میں ہیں؟۔

Comments

یہ بھی پڑھیں