The news is by your side.

گنتی نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن دوبارہ کرایا جائے، جسٹس ساجد کا اختلافی نوٹ

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی تقرری کالعدم قرار دینے سے متعلق فیصلے میں بینچ میں شامل جج جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے اختلافی نوٹ دیا۔

تفصیلات کے مطابق آج لاہور ہائی کورٹ نے 25 منحرف ارکان کے ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کرانے کا حکم دے دیا اور کہا 25منحرف ووٹ نکال کر اکثریت نہ ملی تو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے۔

یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی درخواست پر جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے سنایا، پانچ رکنی بینچ میں شامل جج جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے اختلافی نوٹ لکھا۔

جسٹس ساجد سیٹھی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ حمزہ شہباز کے انتخاب کا30 اپریل کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیاجاتاہے اور عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ کے طور پر بحال کیا جاتا ہے، اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ عثمان بزدار فوری طور پر آفس کا چارج سنبھالیں۔

اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ حمزہ شہباز کو ووٹ دے کر پی ٹی آئی کے 25اراکین نے انحراف کیا،ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے دوبارہ ووٹنگ کرائی جانی چاہیے، جس کو زیادہ ووٹ ملیں وہ وزیراعلیٰ پنجاب ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب : 25 منحرف ارکان کے ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کرانے کا حکم

اس سے قبل عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ منحرف ارکان کے 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کی جائے، دوبارہ رائے شماری میں جس کی اکثریت ہو گی وہ جیت جائے گا۔

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ہم پریزائیڈنگ افسر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم کرنے کا بھی نہیں کہہ سکتے، عدالت پریزائیڈنگ افسر کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نئے الیکشن کا حکم نہیں دیا جا سکتا، دوبارہ الیکشن کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہو گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں