site
stats
عالمی خبریں

لندن دہشت گردی: رواں سال چار بڑے واقعات، 13 افراد ہلاک

لندن: برطانوی دارالحکومت میں رواں سال اب تک دہشت گردی کے 4 بڑے واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، برطانوی وزیراعظم نے مزید حملوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی دارالحکومت میں گزشتہ روز زیرزمین میٹرواسٹیشن دھماکے کی تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی، پولیس نے ڈوور کے علاقے سے اٹھارہ سالہ نوجوان کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کردیا۔

دھماکے کے بعد پورے ملک میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ ہے اور اہم مقامات پر فوجی اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے، برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے مستقبل میں مزید حملوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

لندن دہشت گردی کے واقعات

رواں سال کے آغاز سے اب تک برطانیہ میں دہشت گردی کے پانچ بڑے واقعات ہوئے جن میں 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

پڑھیں: لندن : دہشت گرد حملوں میں‘7افراد ہلاک‘متعدد زخمی

تفصیلات کے مطابق رواں سال لندن میں پہلا دہشت گردی کا پہلا واقعہ 22 مارچ ویسٹ منسٹر برج پر پیش آیا کہ جب حملہ آور نے تیزرفتار گاڑی سے راہگیروں کو کچلا اور وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل بھی ہوا، پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے بعد حملہ آور نے ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار کو چاقو کے وار سے قتل کیا جس پر دوسرے اہلکار نے جوابی فائرنگ کر کے دہشت گرد کو ہلاک کیا، اس حملے میں 4 افراد ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

برطانوی دارالحکومت میں دہشت گردی کا دوسرا بڑا واقعہ 3 جون کو پیش آیا، جب حملہ آور نے لندن برج پر موجود راہگیروں کو گاڑی تلے روندا جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور 48 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

لندن میں دہشت گردی کا تیسرا بڑا واقعہ 19 جون کو پیش آیا، فنسیری پارک کے قریب تیز رفتار وین نے مسجد سے باہر نکلنے والے نمازیوں پر گاڑی چڑ دوڑائی تھی جس کے نتیجے میں ایک شخص شہید اور 10 زخمی ہوئے تھے۔

دہشت گردی کا چوتھا بڑا واقعہ ایک روز قبل پیش آیا  جہاں دہشت گردوں نے دیسی ساختہ بم دھماکے سے میٹرو اسٹیشن کو نشانہ بنایا، دھماکے کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لندن کی زیر زمین ٹرین میں دھماکہ، متعدد زخمی

دھماکے کے بعد ٹرمپ نے برطانوی پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’نظر میں ہونے کے باوجود پولیس نے دہشت گرد کو موقع فراہم کیا‘۔ متنازع ٹوئٹ پر برطانوی حکام نے شدید احتجاج کیا جس کے بعد امریکی صدر نے اپنا ٹوئٹ واپس لے لیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top