The news is by your side.

Advertisement

سات سالہ مہاجر بچی امریکی فوج کی حراست میں جاں بحق

واشنگٹن: میکسیکو سے امریکا میں داخل ہونے والی سات سالہ بچی سرحدی فوج کی حراست میں ہی جاں بحق ہوگئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں پناہ کے لیے آنے والے بچوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بارڈر فورس نے میکسیکو کی سرحد سے داخل ہونے والی سات سالہ بچی کو والدین سمیت ایک ہفتے قبل حراست میں لیا جس کے بعد وہ شدید بیمار ہوئی، والدین نے علاج کی استدعا بھی کی مگر حکام نے اُسے مسترد کردیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کی سرحدی فوج نے جس بچی کو حراست میں لیا اُس کا آپریشن ہوا تھا اور اُس کے زخم تازہ تھے، والدین نے اہلکاروں سے رہائی کی التجا بھی کی مگر اُن کی ایک نہ سنی گئی۔

مزید پڑھیں: امریکا، میکسیکو کے تارکین وطن پر آنسو گیس کی شیلنگ، ٹرمپ کا دفاع

فوجی اہلکار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ سرحد پر درجہ حرارت 105.7 ڈگری سینٹی گریڈ تھا اور بچی نے بیماری کی وجہ سے کئی دنوں تک کچھ بھی کھایا پیا نہیں تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے فوجی حراست میں بچی کی ہلاکت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں مہاجرین کے ساتھ اچھا برتاؤ روا رکھے۔

رواں برس انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکی فوج نے سیکڑوں خواتین اور بچوں کو جیلوں میں قید کر کے رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پانچ لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، رپورٹ

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ سرحد پر امریکی فوج نے جیل تیار کیے جن میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی کم ہے، حراست میں لیے گئے مہاجرین اور اُن کے اہل خانہ کو کھانے پینے کے لیے بھی کچھ فراہم نہیں کیا جاتا۔

ایمنسٹی نے یہ بھی انکشاف کیا تھاکہ گزشتہ پانچ برس کے دوران امریکا کی فوج نے مہاجرین اور اُن کے اہل خانہ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا، اس دوران کئی بچے اور خواتین بھی ہلاک ہوئے مگر ٹرمپ انتظامیہ نے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

امریکا میں پناہ لینے کی خواہش مند خاتون نے انسانی حقوق کی تنظیم سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اُن کی اٹھارہ ماہ کی بیٹی کو دورانِ حراست ناقص کھانے کی وجہ سے ہیضے کا مرض لاحق ہوگیا تھا، ہمارے لیے وہاں پر کوئی سہلوت نہیں تھی اور نہ ہی ڈاکٹرز کی سہولت دی گئیں تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں