The news is by your side.

Advertisement

بے حس اور سفاک قاتلوں نے بچی کو قتل کرکے سینڈوچ کھائے

شکاگو : امریکا میں سفاکیت کا ایک ایسا بدترین واقعہ پیش آیا ہے جس میں سفاک اور انسانیت سے عاری ملزمان نے بے حسی کی مثال قائم کردی۔

امریکی ریاست الینوائے کے شہر شکاگو میں ہونے والے اس واقعہ کو سن کر عدالت کے جج نے بھی برہمی اور حیرت کا اظہار کیا۔

ہوا کچھ یوں کہ22 جنوری کو ہونے والے 8 سالہ بچی کے قتل کے مقدمے میں گرفتار دو ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، 16 سالہ ایمیلیو کورپیو اور27 سالہ زیویئر گزمین پر فرسٹ ڈگری کے قتل، اقدام قتل، فائرنگ اور  غیرقانونی اسلحہ کے استعمال کے الزامات کا سامنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کک کاؤنٹی کے اسسٹنٹ اسٹیٹ کے اٹارنی جنرل جیمز مرفی نے سماعت کے موقع پر عدالت کو بتایا کہ ملزمان واردات کے بعد ہنستے کھیلتے خوشگوار موڈ میں ایک مارٹ سے سینڈوچ اور مشروبات لینے کے لیے گئے تھے۔

اٹارنی جنرل کے مطابق ملزم ٹیکسی ڈرائیور گزمین نے ہفتے کی سہ پہر”لاطینی کنگز گینگ” کے رکن  ریپیو کو اس کے گھر سے لیا جب وہ لٹل ویلیج محلے سے گزر رہے تھے تو ان کا سامنا ایک ایسے شخص سے ہوا جس کا تعلق حریف گینگ سے تھا۔

بعد ازاں گزمین اور کورپیو قریبی گلی میں چلے گئے ایمیلیو کورپیو سیاہ ماسک پہن کر کار سے باہر نکلا اور اس شخص پر گولیاں چلانا شروع کردیں جسے بعد میں 29 سالہ شخص کے طور پر شناخت کیا گیا، اس شخص کو پیٹھ میں گولی لگی لیکن وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب رہا۔

فائرنگ کے دوران گولیاں وہاں کھڑی ایک کار کو بھی لگیں جہاں ایک شخص اور اس کی9 سالہ بیٹی فائرنگ کی آواز سن کر اندر چھپے ہوئے تھے۔

اسی دوران سڑک سے گزرنے والی 8 سالہ میلیسا اپنی ماں کے ساتھ جارہی تھی کہ ایک گولی اس کے سر میں جالگی اور بچی نے وہیں تڑپ کر اپنی جان دے دی۔

یہ منظر دیکھ کر ملزمان وہاں سے فرار ہوگئے لیکن سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ دور جاکر دونوں ملزمان نہایت سکون اور آرام سے گاڑی پارک کرتے ہیں اور ایک مارٹ میں جاکر سینڈوچ اور مشروبات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں