کراچی: رائس ایکسپورٹرز نے کہا ہے کہ کینیا کو پاکستانی چاول کی بر آمدات کے دوران چاول کی شپمنٹ کینیا کے پورٹس سے ہمارے خریدار کے گودام پہنچنے کے دوران راستے میں ہی چوری ہوجاتی ہیں، کینیا کی حکومت کوئی تعاون نہیں کررہی،مسئلہ حکومتی سطح پر حل کیا جائے۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے قائم مقام چیئرمین رفیق سلیمان نے نمائندہ اے آر وائی نیوز کو بتا یا کہ پاکستان نے کینیا کو گزشتہ مالی سال جولائی میں 17 کروڑ ڈالر مالیت کا 4 لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن چاول بر آمد کیا جبکہ اس سے پہلے 19 کروڑ ڈالر مالیت کے تقریباً 5 لاکھ ٹن چاول بر آمد کرچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں تعینات کینیا کے ہائی کمشنر پروفیسر جولیس کیبٹ سے ملاقات میں پاکستانی رائس ایکسپورٹرز نے مختلف مشکلات سے آگاہ کیا، کینیا میں پاکستانی چاول کی چوری کی شکایات ملتی ہیں اور اس معاملے میں ہمیں کینیا کی حکومت سے کوئی تعاون فراہم نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی رائس ایکسپورٹر اپنی مدد آپ کے تحت اپنے چاول کا بیمہ کرواتے ہیں لیکن ہمارے چاول کی چوری کے کلیم ریفنڈ نہیں کیے جاتے اور پاکستانی رائس ایکسپورٹرز کے ہزاروں ڈالرزکے کلیم ابھی تک انشورنس کمپنی کے پاس التوا کا شکار ہیں۔
انہوں نے کینیا کے سفیر کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان سے جانے والی چاول کی شپمنٹ کی ویلیو یشن کینیا کے حکومتی ادارے صحیح طریقے سے نہیں کر رہے ، وفدنے کینیا کے سفیر سے پاکستانی چاول کے لیے خصوصی رعایتی ڈیوٹی عائد کرنے کی درخواست کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں توازن پیدا ہوسکے۔