اشتہار

بھارت میں توہم پرستی: "کرونا” کے مکینوں کو ذلت و رسوائی ملنے لگی

اشتہار

حیرت انگیز

نئی دہلی : بھارت میں کرونا کا نام دہشت کی علامت بن گیا، توہم پرستی میں مبتلا لوگ کرونا نامی گاؤں کے لوگوں سے دور رہ کر ان سے نفرت کا برتاؤ کرنے لگے۔

تفصیلات کے مطابق ریاست اترپردیش کے ضلع سیتا پور میں گاؤں کے لوگ ان دنوں شدید کرب اور پریشانی میں مبتلا ہیں ان کا قصور صرف یہ ہے کہ ان کے گاؤں کا نام ہی کرونا ہے۔

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ ان دنوں جب ہم کہیں جاتے ہیں اور لوگوں پتہ چلتا ہے کہ کرونا گاؤں سے ہیں تو وہ لوگ ہم سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فاصلہ اختیار کرنے لگتے ہیں، اس کے علاوہ پولیس والے بھی ہم سے بدسلوکی کرتے ہیں۔

- Advertisement -

ان کا کہنا ہے کہ کہ یہ وائرس جب سے بھارت پہنچا ہے تبھی سے انہیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، گاؤں سے باہر آنے سے ہمارے لوگ خوفزدہ ہیں، جب ہم لوگوں کو کہتے ہیں کہ ہم کرونا سے ہیں، تو وہ ہم سے بچتے ہیں کیونکہ اس گاؤں کا نام ‘کرونا’ وائرس سے مماثلت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ سیتا پور ضلع ہیڈکوارٹر سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں کرونا گاؤں کے باشندے ابھی تک اس وائرس سے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں