اسلام آباد : سابق نگراں وزیر گوہر اعجاز نے امریکا کے ساتھ فری ٹریڈایگریمنٹ کی تجویز دے دی اور کہا امریکا کیساتھ برآمدات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی کیلئے مذاکرات کیے جائیں۔
تفصیلات کے مطابق سابق نگراں وزیر گوہر اعجاز نے امریکا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تجویز دیتے ہوئے امریکا کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں، پاکستان امریکی مصنوعات کو ڈیوٹی فری درآمدات کی اجازت دے سکتا ہے۔
گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ امریکا کیساتھ برآمدات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی کیلئے مذاکرات کیے جائیں، امریکا کا بڑا اعتراض ہے پاکستان نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگایا۔
سابق نگراں وزیر نے کہا کہ امریکا کو شکایت ہے پاکستان امریکی مصنوعات کو اجازت نہیں دے رہا، امریکی مصنوعات کو پاکستان کی مارکیٹ تک کھلی اجازت دینا فائدہ مند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی مارکیٹ کھول کر امریکا کا تجارتی خسارہ کم کرسکتا ہے، پاکستان کا امریکا کے ساتھ 3 ارب ڈالرز کا تجارتی سرپلس ہے، امریکا پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔
سابق نگراں وزیر نے مزید کہا کہ ٹرمپ ٹیرف پاکستان کے لیے ایک منفرد موقع ہیں، پاکستان امریکی مصنوعات کو ترجیح دے سکتا ہے، پاکستان امریکا سے کاٹن کی درآمد پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز زیرو کر سکتا ہے اور امریکا سے مشینری کی درآمد پر ڈیوٹیز کی چھوٹ دے سکتاہے۔
انھوں نے بتایا کہ امریکا کی لیدر اور جوتوں کی مارکیٹ کو دیگرسپلائرز سے دھچکا لگا ہے، پاکستان امریکا کی لیدراور فٹ ویئر مارکیٹ میں جگہ بناسکتاہے، پاکستان9.5 سینٹ بجلی کے نرخ اور 100 ڈالر لیبر پر عالمی منڈی میں مقابلہ کرسکتا ہے۔
سابق نگراں وزیر کا کہنا تھا کہ امریکی مصنوعات کو کم ترین ٹیرف پر پاکستان تک رسائی دی جائے، امریکا نے چین پر 54 فیصد اور ویتنام پر 46 فیصد ڈیوٹیز عائد کی ہیں، پاکستان نے گزشتہ 8 ماہ میں امریکا کو 4 ارب ڈالرزکی مصنوعات برآمد کی۔
انھوں نے تجویز دی کہ چین کی صنعتوں کو پاکستان منتقل کرنے کے لیے پارٹنر شپ کی جائے۔