The news is by your side.

Advertisement

انجائنا: دل اور دردِ دل شعرا و ادبا کی نظر میں

’’….میرے دونوں شانوں کے درمیان جو درد تھا اس میں فائدہ نہیں ہوا، بعض دفعہ میں رات کو اس کی وجہ سے سو نہیں سکتا۔ اٹھ کر سیدھا بیٹھ جاتا ہوں تو قدرے ریلیف ہوتا ہے۔ اگر علی بخش دونوں ہاتھ سے ذرا مَل دے تو پھر تھوڑی دیر کے لیے آرام ہو جاتا ہے۔ شاید دورانِ خون کی وجہ سے ہے۔‘‘

علاّمہ اقبال نے انجائنا یا دردِ دل کا ذکر اپنے ایک خط میں اس طرح کیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی دل چسپی سے خالی نہیں ہے کہ علّامہ اقبال نے اس قیاس سے کہ شاید یہ تکلیف دورانِ خون کی وجہ سے ہے، اپنی ژرف نگاہی کا ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔ حقیقت میں بھی بالکل ایسا ہی ہوتا ہے۔

یہ ایک پرانا مرض ہے اور اس کے متعلق جانکاری قدیم طبی دستاویزات میں بھی ملتی ہے۔ دنیا بھر میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے جو قدیم مزارات دریافت کیے ہیں جن میں اکثر چین و مصر میں موجود ہیں، ان مزارات میں محفوظ کیے گئے انسانی ڈھانچوں کے سائنسی تجزیے سے اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ قدیم چین اور مصر کے باشندوں کو دل سے نکلنے والی باریک لال رگوں یا عروقِ شعریہ کے متعلق جانکاری حاصل تھی۔ لگ بھگ تین ہزار برس پرانے چینی طبّی صحیفوں میں، اس بات کے متعلق آگاہی ملتی ہے کہ چینیوں کو یہ علم تھا کہ دل سے لہو کا دھارا چلتا رہتا ہے جو انسانی جسم میں رواں دواں ہے۔ اور اسی سے ہر جاندار زندہ اور متحرک ہے اور اس کا رکنا ہی موت ہے۔

جسمِ انسانی میں دورانِ خون کا سارا دار و مدار قلب کی انقباضی اور انبساطی حالت و کیفیت پر منحصر ہے اور دل کے اسی سکڑنے اور پھیلنے پر انسانی بقا و دوام کا انحصار ہے۔ دل کے ظاہری افعال و خواص یا پھر طبّی، معالجاتی یا خلقی نظام کی جانکاری یہیں سے شروع ہو جاتی ہے اور دل کے سکڑنے، پھیلنے، تنگ ہوجانے یا پھر وسیع ہوجانے پر ہی، سارا کاروبارِ زندگی منحصر ہے، لیکن دل کی ان سب طبعی خصوصیات کے علامتی مفاہیم بھی ہیں جنھیں ہر دور کے شعرا و ادبا نے اپنے فن پاروں میں استعمال کیا ہے۔ مثالیں لاتعداد ہیں۔

یہاں مرزا غالب کے ان چند اشعار پر ہی اکتفا ممکن ہے جن میں دل کی تنگی یا پھر وسعت کا ذکر کیا گیا ہے۔ فرماتے ہیں:

تنگیِ دل کا گلہ کیا؟ یہ وہ کافر دل ہے
کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا

شرحِ اسباب گرفتاریِ خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا

نہ بندھے تشنگیِ شوق کے مضموں غالب
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا

درد اور دل کا قصہ آج کا بھی ہے اور بہت پرانا بھی۔ ایک قدیم طبیب کا کہنا ہے:

’’اس کا حملہ بالکل طوفان کی طرح ہوتا ہے، باقی بیماریوں میں تو صرف بیمار ہونے کا احساس ہوتا ہے، لیکن حملۂ قلب میں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخری وقت آپہنچا ہے۔‘‘ (لوسیس سنیکا، قبل مسیح)

ان تاریخی واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ انجائنا کی علامات بالکل واضح ہوتی ہیں اور ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں یہ بات بھی دل چسپی سے خالی نہیں کہ انجائنا کو یہ نام 1868 میں ایک انگریز طبیب نے دیا جس نے اس کی تشخیص کے لیے چار اہم علامات کا موجود ہونا لازمی قرار دیا ہے۔

(1) درد سینے کے درمیاں سے اٹھے
(2) درد بائیں ہاتھ کی طرف پھیلے
(3) درد حرکت کرنے سے شروع ہو۔
(4) درد تیس سیکنڈ سے زیادہ اور تیس منٹ سے کم وقفے تک رہے۔

(اشرف آثاری کے مضمون ‘دردِ دل: اطبا اور ادبا کی نظر میں’ سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں