The news is by your side.

افسوس! ہم نہ ہوں گے!

دنیا کی سب محفلیں تغیراتِ زمانہ سے درہم و برہم ہو جاتی ہیں مگر خدا کی مرتب کی ہوئی محفل جس میں انقلاباتِ عالم سے ہر روز ایک نیا لطیف پیدا ہوتا رہتا ہے ہمیشہ آباد رہی اور یونہی قیامت تک جمی رہے گی۔

یہ وہ محفل ہے جس کی رونق کسی کے مٹانے سے نہیں مٹ سکتی۔ وہ پُرغم واقعات اور وہ حسرت بھرے سانحے جن سے ہماری محفلیں درہم و برہم ہو جایا کرتی ہیں۔ ان سے بزمِ قدرت کی رونق اور دو بالا ہو جاتی ہے۔ ہماری صحبت کا کوئی آشنا حرماں نصیبی میں ہم سے بچھڑ کے مبتلائے دشتِ غربت ہو جاتا ہے۔ تو برسوں ہماری انجمنیں سونی پڑی رہتی ہیں۔ ہمارے عشرت کدوں کا کوئی زندہ دل نذرِ اجل ہو جاتا ہے تو سال ہا سال کے لیے ماتم کدے ہو جاتے ہیں۔ مگر جب ذرا نظر کو وسیع کرو اور خاص صدمات کو خیال چھوڑ کے عالم کو عام نظر سے دیکھو تو اس کی چہل پہل ویسی ہی رہتی ہے بلکہ نئی نسل کے دو چار پر جوش زندہ دل ایسے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ دنیا کی دل چسپیاں ایک درجہ اور ترقی کر جاتی ہیں۔ ایک شاعر کا قول ہے۔

دنیا کے جو مزے ہیں ہرگز یہ کم نہ ہوں گے
چرچے یہی رہیں گے افسوس! ہم نہ ہوں گے

جس نے کہا ہے بہت خوب کہا ہے۔ بزمِ قدرت ہمیشہ یونہی دل چسپیوں سے آباد رہے گی۔ ہاں ہم نہ ہوں گے اور ہماری جگہ زمانہ ایسے اچھے نعم البدل لا کے بٹھا دے گا کہ ہماری باتیں محفل والوں کو پھیکی اور بے مزہ معلوم ہونے لگیں گی۔
الغرض یہ محفل کبھی خالی نہیں رہی۔ کوئی نہ کوئی ضرور رہا۔ جو اس بزم کی رونق کو ترقی دیتا رہا۔ اسی مقام سے یہ نازک مسئلہ ثابت کیا جاتا ہے کہ زمانہ کی عام رفتار ترقی ہے۔ ایک قوم آگے بڑھتی اور دوسری پیچھے ہٹتی ہے۔ تنزل پذیر قوم کے لوگ اپنے مقام پر جب اطمینان سے بیٹھتے ہیں۔ زمانہ اور ملک کی شکایتوں کا دفتر کھول دیتے ہیں اور ان کو دعویٰ ہوتا ہے کہ زمانہ تنزل پر ہے۔ مگر اصل پوچھیے تو تنزل صرف ان کی غفلتوں اور راحت طلبیوں کا نتیجہ ہے۔ دنیا اپنی عام رفتار میں ترقی ہی کی طرف جا رہی ہے۔

اے وہ لوگو! جو شکایتِ زمانہ میں زندگی کی قیمتی گھڑیاں فضول گزار رہے ہو۔ ذرا بزمِ قدرت کو دیکھو تو کس قدر دل کش اور نظر فریب واقع ہوئی ہے۔ تمہارے دل میں وہ مذاق ہی نہیں پیدا کہ ان چیزوں کی قدر کر سکو۔ یہ وہ چیزیں ہیں کہ انسانی جوش کو بڑھاتی ہیں اور طبیعت میں وہ مفید حوصلے پیدا کرتی ہیں جن سے ہمیشہ نتیجے پیدا ہوئے اور پیدا ہوں گے۔ اندھیری رات میں آسمان نے اپنے شب زندہ دار دوستوں کی محفل آراستہ کی ہے۔ تارے کھلے ہوئے ہیں۔ اور اپنی بے ترتیبی اور بے نظمی پر بھی عجب بہار دکھا رہے ہیں۔ دیکھو ان پیارے خوش نما تاروں کی صورت پر کیسی زندہ دلی اور کیسی تری و تازگی پائی جاتی ہے؟

پھر یکایک مہتاب کا ایسا حسین اور نورانی مہمان مشرق کی طرف سے نمودار ہوا اور یہ گورے گورے تارے اپنی بے فروغی پر افسوس کر کے غائب ہونے لگے۔ ماہتاب آسمان کے نیلگوں اطلسی دامن میں کھیلتا ہوا آگے بڑھا۔ وہ اگرچہ ہماری طرح دلِ داغ دار لے کے آیا تھا لیکن خوش خوش آیا۔ اور ہمارے غربت کدوں کو روشن کر کے بزم قدرت میں نہایت لطیف اور خوش گوار دل چسپیاں پیدا کر کے خوشی خوشی صحنِ فلک کی سیر کرتا ہوا مغرب کی طرف گیا اور غائب ہو گیا۔
ابھی آسمان کو اس مہمان کا انتظار تھا۔ جس سے نظام عالم کا سارا کاروبار چل رہا ہے۔ اور جس کی روشنی ہماری زندگیوں کی جان اور ہماری ترقیوں کا ذریعہ ہے۔ آفتاب بڑی آب و تاب سے ظاہر ہوا۔ رات کا خوب صورت اور ہم صحبت چاند اپنے اترے ہوئے چہرہ کو چھپا کے غائب ہو گیا۔ اور آسمان کا اسٹیج بزمِ قدرت کے دل فریب ایکٹروں سے خالی ہو گیا۔

خوابِ شب کا مزہ اٹھانے والوں کی آنکھیں کھل کھل کے افق مشرق کی طرف متوجہ ہوئی ہیں۔ آفتاب کی شعاعیں آسمان کے دور پر چڑھتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس کے ساتھ مرغانِ سحر کے نغمہ کی آواز کانوں میں آئی ہے۔ اور آنکھیں مل کے دیکھا ہے تو ہماری نظر کی خیرگی نہ تھی۔ شمع حقیقت میں جھلملا رہی ہے۔ یک بیک وفور طرف نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ گھنٹے بجے ہیں۔ چڑیاں چہچہائیں۔ موذنوں نے اذانیں دیں۔ اور تمام جانوروں کی مختلف آوازوں نے مل کر ایک ایسا ہمہما پیدا کر دیا ہے کہ نیچر کی رفتار میں بھی تیزی پیدا ہو گئی۔ باغ نیچر کے چابک دست کاری گر اپنے کام کی طرف متوجہ ہوئے۔ نسیم سحر اٹکھیلیاں کرتی ہوئی آئی اور ضابط و متین غنچوں کے پہلو گدگدانے لگی۔ الغرض قدرت نے اپنی پوری بہار کا نمونہ آشکارا کر دیا۔

(انشائیہ از قلم مولوی عبدالحلیم صاحب شرر لکھنوی)

Comments

یہ بھی پڑھیں