The news is by your side.

Advertisement

پاکپتن اراضی کیس: اینٹی کرپشن ٹیم کو نوازشریف سے جیل میں تفتیش کی اجازت مل گئی

لاہور : پاکپتن درباراراضی الاٹمنٹ کیس میں اینٹی کرپشن ٹیم کو نوازشریف سے جیل میں تفتیش کی اجازت مل گئی، ٹیم تیس جولائی کوکوٹ لکھپت جیل جائےگی۔

تفصیلات کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ نے اینٹی کرپشن حکام کو پاکپتن درباراراضی الاٹمنٹ کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے جیل میں تفتیش کی اجازت دے دی۔

اینٹی کرپشن ساہیوال کی 3 رکنی ٹیم 30 جولائی کوکوٹ لکھپت جیل جائےگی اور نواز شریف سے تحقیقات کرے گی۔

یاد رہے 25 جولائی کو محکمہ اینٹی کرپشن نے پاکپتن اراضی سکینڈل میں نواز شریف سے بطور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب تحقیقات کےلئے سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو خط ارسال کیا تھا۔

ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ساہیوال ریجن شفقت اللہ مشتاق کی جانب سے سپرنٹنڈنٹ جیل کے نام لکھے گئے خط میں پاکپتن اراضی سکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ محکمہ اوقاف/ریو نیو ڈیپارٹمنٹ اور دیگر افسران /آفیشلز سے تحقیقات میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ محمد نواز شریف کا کردا ربھی سامنے آیا تھا او ریہ تحقیقات زیر التواءہے ۔

مزید پڑھیں : پاکپتن درباراراضی کیس: جےآئی ٹی نے نوازشریف کوذمہ دارقراردے دیا

خط میں بتایا گیا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوسٹی گیشن ساہیوال غضنفر طفیل ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل راشد مقبول اور انسپکٹر ہیڈ کوارٹر ساہیوال زاہد علی اس کی انکوائری کر رہے ہیں ۔ مذکورہ ٹیم کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف سے اس کیس میں تحقیقات کے لئے 30جولائی کو دورہ کرنا چاہتی ہے اس لئے ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جائے ۔

واضح رہے کہ 1985 نواز شریف نے پاکپتن میں دربار کے گرد محکمہ اوقاف کی اراضی غیر قانونی طور پر دربار کے سجادہ نشین کے نام منتقل کردی تھی اور محکمہ اوقاف کا جاری کردہ زمین واپس لینے کا نوٹیفیکیشن بھی منسوخ کردیا تھا۔

خیال رہے نواز شریف اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں