The news is by your side.

Advertisement

بہار میں گرمی کے باعث 91 افراد ہلاک، عوام کا وزیر صحت کے خلاف احتجاج

نئی دہلی: بھارتی ریاست بہار میں شدید گرمی کے باعث گزشتہ 30 گھنٹوں کے دوران کم از کم 91 افراد ہلاک ہوگئے، وزیر صحت کومریضیوں کی عیادت کے دوران اسپتال میں ضروری اشیاء کی عدم فراہمی کے خلاف شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیدار وجے کمار کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں تین اضلاع میں ہوئی ہیں جہاں درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ تھا۔

وجے کمار کا کہنا تھا کہ مگادار ریجن کے تین اضلاع میں 91 افراد جاں بحق ہوئے اور یہ علاقے خشک سالی کا بھی شکار ہوئے تھے، گزشتہ روز دوپہر کو اچانک یہ افسوس ناک پیش آیا اور ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ افراد اسپتال پہنچے تھے۔

عہدیدار کے مطابق اکثر ہلاکتیں ہفتے اور اتوار کی رات کو ہوئی تھیں اور چند اموات اتوار کو صبح ہوئیں، صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اورنگ آباد میں واقع سرکاری اسپتال میں مزید 40 سے زائد متاثرہ افراد طبی امداد دی جارہی ہے۔

محکمہ صحت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ مزید مریض اسپتال لائے جارہے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور اگر گرمی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مزید اموات کا خدشہ ہے۔

عہدیداروں کے مطابق اکثر متاثرہ افراد کی عمریں 50 برس سے زائد ہیں جبکہ کم عمر بچے بھی ہلاک شدگان میں شامل ہیں جو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال پہنچ رہے ہیں اور انہیں بخار، ڈائیریا اور متلی کی شکایت ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بہار حکومت نے لوگوں کو غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے، دریاوں اور جھیلوں میں پانی کی سطح کم ہو گئی، لوگوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ وزیر صحت ہرش وردھن نے متاثرین کی عیادت کےلیے اسپتال کا دورہ کیا تو متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے.

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ متاثرین کی جانب سے اسپتال میں ضروری اشیا‌ء یسے بیڈ، ادویات ودیگر اشیاء کی عدم فراہمی خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ 2015 میں بھی ہیٹ ویو کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان میں 3 ہزار 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں