site
stats
انٹرٹینمںٹ

کیا پاکیزہ کی تصاویر اور ویڈیوز لیک کروانے میں رمشا کا ہاتھ ہے؟

اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہونے والے نئے ڈرامے ’ایسی ہے تنہائی‘ کی ابتدائی دو قسطیں مقبول ہوگئیں اور ناطرین کو آئندہ آنے والی قسط کا شدت سے انتظار ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی ڈیجیٹل کے مشترکہ تعاون سے پیش کیے جانے والے ڈرامے میں ایک ایسے ظالم معاشرے کی عکاسی پیش کی جائے گی جو خواتین کی حرمت کو کچھ نہیں سمجھتا۔

اس ڈرامے میں سونیا خان پاکیزہ نامی لڑکی کا کردار ادا کررہی ہیں جو اپنے یونیورسٹی کے دوست حمزہ سے بے حد محبت کرنے لگتی ہے، پاکیزہ کی والدہ بیوہ ہونے کے ساتھ بیٹیوں پر کسی بھی آنچ آنے سے خوف کھاتی ہیں۔

ریویو

یہ ڈرامہ سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے خلاف بنایا گیا ہے، جسے دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں (بڑے، بوڑھوں) کو ہم اس معاملے میں سمجھایا چاہیے وہ انٹرنیٹ کی دنیا سے بہت دور ہیں اور اس معاملے میں وہ نوجوانوں کی تربیت نہیں کرپاتے۔

ڈرامے میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ایک بیوہ عورت کن مصائب کا سامنا کرتے ہوئے بیٹیوں کی تربیت کرتی ہے اور معاشرے کی برائیوں سے بچنے کے لیے اپنی بچیوں پر سختی کرتی ہے۔

ڈرامے میں معاشرے کا ایک اور عنصر بہت قریب سے دکھایا گیا ہے کہ جن گھروں میں بیٹیوں کی عمریں زیادہ ہوجائیں وہاں والدین کوئی بھی رشتہ آنے پر  رضامندی نہیں پوچھتے اور خود سے بیٹی کی تقدیر کا فیصلہ کر بیٹھتے ہیں۔

ایک اور اہم معاملہ ڈرامے میں اٹھایا گیا ہے کہ معاشرے میں ایک عورت اپنی محبت پانے کے لیے کس قدر گر سکتی ہے اس کا عملی مظاہرہ رمشا نامی لڑکی کا کردار دیکھنے کے بعد بخوبی سمجھ آجائے گا۔

ڈرامے میں ایک اور پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواتین کے معاملے میں ہم نے معاشرے میں ظالمانہ نظام رائج کیا ہوا ہے جس کے خلاف بولنے کی کوئی بھی ہمت نہیں رکھتا، اس کہانی کے ذریعے اُن لوگوں کو چہرہ فاش کیا جائے گا جو بالخصوص معاشرے کی خواتین کو کچھ نہیں سمجھتے۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے اسکرول کریں

نادیہ خان اس ڈرامے میں ایسی لڑکی کا کردار ادا کررہی ہیں جسے چار سال کی منگنی کے بعد زوہیب نامی کردار فون کے ذریعے رشتہ ختم کرنے کا اعلان کرتا ہے، بڑی بیٹی کا رشتہ ختم ہونے کی وجہ سے والدہ کا کردار ادا کرنے والی صبا حمید بے حد پریشان ہوتی ہیں۔

پریشانیوں اور مصائب کا سامنا کرنے کے ساتھ بیٹیوں کی اچھی پرورش کرنے والی والدہ پاکیزہ کو بمشکل یونیورسٹی جانے کی اجازت دیتی ہیں اور ساتھ اُس پر یہ نظر بھی رکھتی ہیں کہ پڑھائی کے علاوہ بیٹی کسی اور کام میں مشغول نہ ہوجائے۔

پاکیزہ کی یونیورسٹی میں حمزہ نامی لڑکے سے دوستی ہوتی ہے جو بعد میں محبت کی صورت اختیار کرجاتی ہے، حمزہ ایک ایسے گھر سے تعلق رکھتا ہے جس نے پہلے غربت دیکھی تاہم قسمت نے کا پہیہ گھومنے سے اُن کے معاشی حالات بہت بہتر ہوگئے۔

پاکیزہ اور حمزہ کو ایک دوسرے سے اس قدر انسیت ہوجاتی ہے کہ وہ یونیورسٹی کی ملاقات کے لیے آتے ہیں، ایک روز حمزہ وقت سے ایک گھنٹہ قبل جامعہ پہنچتا ہے اور وہاں سناٹا دیکھ کر سیکیورٹی گارڈ سے حالات معلوم کرتا ہے جس کے بعد اُسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یونیورسٹی لگنے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی یونیورسٹی پہنچ جاتا ہے۔

یونیورسٹی میں بیٹھ کر حمزہ اپنی دوست پاکیزہ کا انتظار کرتا ہے تاہم دوسری طرف سونیا خان (پاکیزہ) کی والدہ اچانک بیٹی کو یونیورسٹی کی چھٹی کرنے کا حکم صادر کرتی ہیں، پاکیزہ فوراً موبائل اٹھا کر تمام تر صورتحال کا حمزہ کو بتا کر کہتی ہے کہ آج میں یونیورسٹی نہیں آرہی کیونکہ خریداری کے لیے جارہی ہوں۔

حمزہ پاکیزہ کو تلاش کرتے کرتے بلآخر اُس شاپنگ مال میں پہنچ جاتا ہے جہاں دونوں بہن خریداری کے لیے موجود ہوتی ہیں، پاکیزہ کو دیکھ کر اُس سے رکا نہیں جاتا اور وہ بات کرنے کے لیے آجاتا ہے اسی دوران بڑی بہن کنزہ کی آمد بھی ہوتی ہے۔

گھر واپس آکر دونوں بہنیں حمزہ کے بارے میں بات کررہی ہوتی ہیں کہ اچانک والدہ کی سماعت سے کسی لڑکے کا نام ٹکراتا ہے اور وہ پلکتے جھپکتے کمرے میں داخل ہوکر بیٹی کے منہ پر طمانچہ جڑ تے ہوئے حکم صادر کرتی ہیں کہ آئندہ یونیورسٹی جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

پاکیزہ والدہ کا یہ حکم سُن کر پریشان ضرور ہوتی ہے تاہم رمشا نامی لڑکی جو حمزہ اور سونیا کی محبت میں دراڑیں ڈالنے کی حتیٰ الامکان کوشوں میں ہے وہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔

رمشا ایک دم پاکیزہ کے گھر پہنچ کر حمزہ کی تمام تر صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ’بھروسے کی بات ہے تم یونیورسٹی آکر اُسے سمجھا دو ، یہ اتنی سی بات ہے‘۔ یہ سب سننے کے بعد پاکیزہ اپنی والدہ کی جانب سے عائد ہونے والی پابندی سے آگاہ کرتی ہے مگر ساتھ ہی رمشا کہتی ہے ’بے فکر رہو سارا اتنظام کر کے آئی ہوں‘۔

پاکیزہ اور حمزہ کی محبت کو ختم کرنے کا خواب دیکھنے والی رمشا ایک فائل سونیا کے ہاتھ میں تھما کر کہتی ہے کہ ’تھیسس کے معاملے میں سر تم سے بات کرنا چاہتے ہیں، کل یونیورسٹی آجاؤ‘۔

سونیا (پاکیزہ) اپنی بڑی بہن کو صورتحال بتا کر یونیورسٹی کے لیے گھر سے نکلتی ہے اور وہاں داخل ہوتے ہی پیچھے سے حمزہ موٹرسائیکل پر آجاتا ہے، بات چیت کے بعد حمزہ گاڑی کھڑی کرنے جاتا ہے تو اسی دوران مسلح افراد پاکیزہ سے زبردستی موبائل چھین کر لے جاتے ہیں (مبینہ طور پر اس موبائل میں حمزہ اور پاکیزہ کی ویڈیوز موجود ہیں)

مسلح افراد جاتے وقت پاکیزہ کے کاندھے پر گولی مارتے ہیں جس کے بعد حمزہ اُسے اسپتال لے کر پہنچتا ہے، کافی دیر بعد جب پاکیزہ گھر نہیں پہنچتی اور اُس کا فون ریسیو نہیں کرتی تو بگڑتی صورتحال کے تحت کنزہ رمشا کو فون کر کے خیریت لیتی ہے تب معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی بہن اسپتال میں داخل ہے۔

اسپتال میں چار دن داخل رہنے کے بعد پاکیزہ واپس گھر آتی ہے تو حمزہ اُس سے ملنے کے لیے اچانک گھر پہنچتا ہے جہاں پاکیزہ کی والدہ دروازہ کھول کر اُسے اندر بلاتی ہیں اور خوب سلاواتیں سناتی ہیں۔

اگلی قسط میں مبینہ طور پر  وہ تصاویر سامنے آئیں گی جو پاکیزہ کے موبائل میں موجود تھیں، اس صورتحال کے بعد پاکیزہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پہلی اور دوسری قسط

آئندہ آنے والی قسط پر مختصر نظر

پاکیزہ کی خفیہ تصاویر اپنے موبائل میں دیکھ کر رمشا کے منہ پر انتقامی مسکراہٹ آجاتی ہے جس کے یہ گماں ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر رمشا نے بدلا لینے اور حمزہ سے قریب ہونے کے لیے یہ اقدام اٹھایا ہو۔

ڈرامے کی اگلی قسط بدھ کی رات 8 بجے اے آر وائی ڈیجٹل پر نشر کی جائے گی۔

تیسری قسط کا ٹریزر

کاسٹ

نادیہ خان، سمی خان، سونیا خان، صبا حمید، کامران جیلانی، شہریارزیدی، سیمی پاشا، سعدیہ غفار، کائنات کاظمی، نصرت، محبوب سلطان، سید قمر رضا، فہیم تجانی، روحی غزالی

ڈرامے کے رائیٹر محسن علی جبکہ پروڈیوسر فہد مصطفیٰ اور ڈاکٹر علی کاظمی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top