The news is by your side.

Advertisement

یہ صرف کوّا ہے! (ایک مشہور حکایت)

کتنی ہی صدیاں گزر چکی ہیں، لیکن ایسوپ کی حکایتوں، قصّے اور کہانیوں‌ کا سحر آج بھی برقرار ہے۔ اسے قدیم یونان کا باسی بتایا جاتا ہے جس کے مفصّل اور درست حالاتِ زندگی تو دست یاب نہیں‌، مگر اس قصّہ گو کی حکایتیں آج بھی مقبول ہیں۔ اس کی سبق آموز اور نہایت دل چسپ حکایتوں کا دنیا بھر کی زبانوں میں‌ ترجمہ کیا گیا ہے۔

مرزا عصمت اللہ بیگ نے ایسوپ کی کئی حکایات کا اردو ترجمہ کیا تھا جو 1943ء میں کتابی شکل میں‌ شایع ہوئی تھیں۔ اسی کتاب سے ایک نصیحت آموز قصّہ پیشِ خدمت ہے۔

ایک سرسبز میدان میں بہت سی بھیڑیں اور ان کے بچّے چرتے پِھر رہے تھے۔ کسی پہاڑ کی چوٹی سے عقاب اڑتا ہوا آیا اور ایک بچّے پر جھپٹ پڑا۔ وہ اسے پنجوں میں‌ دبا کر تیزی سے اڑ گیا۔

ایک کوّا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے دل میں‌ خیال کیا کہ میں‌ بھی ایک جانور پر جھپٹ کر اور اسے اپنے پنجوں میں پکڑ کر کیوں نہ اڑ جاؤں۔

یہ ارادہ کرکے وہ بھی بھیڑ کے ایک بچّے پر جھپٹا اور اس کے بالوں میں‌ اچّھی طرح اپنے پنجے گاڑ کر اڑنا چاہا، مگر وہ تو بھیڑ کے بالوں‌ میں‌ اس طرح الجھے کہ کوّے کو اپنے پنجے نکالنا مشکل ہو گیا۔ آخر کار بے دم ہو کر اپنے پَر مارنے لگا۔

بھیڑوں کا مالک قریب ہی بیٹھا کوّے کی اس حرکت کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اٹھا اور کوّے کو پکڑ کر اس کی دُم اور پَر کاٹ ڈالے۔ شام کو اپنے گھر پہنچ کر اسے اپنے بچّوں کے حوالے کر دیا۔

بچّوں نے پوچھا، “بابا یہ کیا جانور ہے؟”

باپ نے جواب دیا، “اگر تم اس جانور سے پوچھو گے تو یہ اپنا نام عقاب بتائے گا، مگر میں‌ خوب جانتا ہوں کہ یہ صرف ایک کوّا ہے۔”

Comments

یہ بھی پڑھیں