The news is by your side.

Advertisement

افغان طالبان نے مزید دو اضلاع پر قبضہ کرلیا

کابل: افغان طالبان نے مزید دو اضلاع پر قبضہ کرکے حکومتی فورسز کی مشکلات میں اضافہ کردیا، طالبان کی پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے افغان شہری ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے مزید اضلاع پر قبضوں کا سلسلہ جاری ہے، حالیہ کارروائی میں طالبان نے صوبہ غور کے دو اضلاع تائیوارا اور پسابند پر اپنا پرچم لہرا دیا جب کہ صوبے تخار میں قبضے کی کوشش کی ناکام رہی۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے تاجکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبے تخار کے دارالحکومت تالقان پر طالبان کی جانب سے قبضے کی کوشش کی گئی تاہم افغان فورسز نے طالبان کے حملے کو بری طرح ناکام بنا دیا۔

ترجمان تخار پولیس کا کہنا ہے کہ ہفتے کی رات 4 بجے طالبان چار اطراف سے تالقان پر حملہ آور ہوئے لیکن افغان فورسز نے فضائی حملوں کی معاونت سے طالبان کو شکست سے دوچار کردیا جب کہ حملے میں 55 طالبان ہلاک جبکہ 90 زخمی ہوئے۔

افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افغان فورسز اور شہریوں کی جانب سے طالبان کے خلاف شدید مزاحت کی جارہی ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹون کے دوران فورسز نے 271 طالبان اراکین کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ تاحال تقریباً دس شہروں کے اطراف میں طالبان اور فورسز کے درمیان جنگ جاری ہے، جس میں قندھار، تالقان، پل خمری اور شبرغان سمیت دیگر شہر شامل ہیں۔

خیال رہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ایک روز قبل بھی ایک ضلع اپنے قبضے میں تھا،جس کے بعد ترجمان طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کا 85 فیصد سے زائد علاقہ اُن کے زیر اثر آچکا ہے۔

افغان طالبان کی پیش قدمی جاری، ایک اور ضلع پر کنٹرول

رپورٹ کے مطابق طالبان کی پیش قدمی اور کارروائیوں کے بعد افغان شہری کابل کا رخ کرنے لگے جبکہ اس لڑائی میں عام شہری کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک روانگی کی کوششیں کررہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں