site
stats
صحت

برطانوی شہزادے ہیری کا ایچ آئی وی ٹیسٹ

جوہانسبرگ: ساؤتھ افریقہ کے شہر ڈربن میں ایچ آئی وی ایڈز کے بارے میں معلومات اور آگہی کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے 18 ہزار سائنسدانوں، سیاستدانوں اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔ اس سے چند روز قبل برطانیہ کے شہزادہ ہیری بھی ایڈز سے آگہی کے لیے اپنا ایچ آئی وی ٹیسٹ کروا چکے ہیں۔

کانفرنس ’ایڈز 2016‘ میں اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

harry-5

یونیسف کے سربراہ انتھونی لیک نے اس موقع پر بتایا کہ افریقہ میں رہنے والے 10 سے 19 سال کے افراد میں موت کی ایک بڑی وجہ ایڈز ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ گو کہ عالمی طور پر اس سے بچاؤ کے لیے بے شمار اقدامات کیے جاچکے ہیں لیکن ابھی بھی اس وائرس سے بچوں اور بڑوں کو خطرہ ہے۔

یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2000 سے دنیا بھر میں ایڈز سے متاثر ہونے والے 15 سے 19 سال کی عمر کے افراد میں دگنا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس میں 65 فیصد تعداد لڑکیوں کی ہے جو اس حوالے سے زیادہ خطرات کا شکار ہیں۔

سال 2015 میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق افریقہ میں ہر 4 میں سے 3 لڑکیاں ایچ آئی وی وائرس کا شکار نکلیں۔

harry-4

اسی سال کیے جانے والے ایک اور سروے میں 16 ممالک کے 52 ہزار نوجوانوں کو شامل کیا گیا۔ ان میں سے 68 فیصد نوجوانوں نے ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانے سے انکار کردیا کیونکہ یا تو وہ اس کی مثبت رپورٹ آنے سے ڈر رہے تھے یا ایڈز کے حوالے سے پائے جانے والے سماجی رویے سے خوفزدہ تھے۔

دوسری جانب لندن میں شہزادہ ہیری نے بھی اپنا ایچ آئی وی ٹیسٹ کروایا جو منفی نکلا۔ وہ ایچ آئی وی کے خلاف چلائی جانے والی ایک آگاہی مہم کا حصہ ہیں اور یہ ٹیسٹ اسی مہم کی ایک کڑی ہے۔

ٹیسٹ کے بعد انہوں نے بتایا کہ رپورٹ آنے سے قبل وہ ہچکچاہٹ کا شکار تھے اور تھوڑے خوفزدہ بھی تھے کہ ان کی کیا رپورٹ آئے گی۔ تاہم ٹیسٹ کی منفی رپورٹ آنے کے بعد انہوں نے سکھ کا سانس لیا۔

شہزادہ ہیری کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانے کا مقصد دراصل یہ باور کروانا تھا کہ یہ ٹیسٹ نہایت ہی سادہ، آسان اور کم وقت میں بغیر کسی تکلیف کے کیا جاسکتا ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعہ انہوں نے لوگوں کو ترغیب دی کہ وہ بھی اپنا ایچ آئی وی ٹیسٹ کروائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

harry-1

ڈربن میں ہونے والی ایڈز کی عالمی کانفرنس 17 سے 22 جولائی تک جاری رہے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top