The news is by your side.

Advertisement

ٹوکیو اولمپکس: فلسطین کی حمایت پر کھلاڑی کو زبردستی ایونٹ سے باہر کردیا گیا

ٹوکیو: اولمپک گیمز 2020 میں حصہ لینے والے الجزائر کے کھلاڑی کو فلسطین کی حمایت پر ایونٹ سے باہر کردیاگیا۔

فلسطین کرونیکل کی رپورٹ کے مطابق اولمپک گیمز میں الجزائر کی نمائندگی کرنے والے جوڈو کھلاڑی فتحی نوران نے فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاجاً اسرائیلی کھلاڑی کا سامنا کرنے سے انکار کیا۔

اولمپک گیمز کی انتظامیہ نے فتحی نوران کے احتجاج پر انہیں بقیہ میچز سے نکال کر وطن واپس بھیج دیا ہے۔

نوران نے اسرائیلی کھلاڑی سے مقابلے کا احتجاجاً بائیکاٹ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’ایسے ملک کے کھلاڑی کے ساتھ نہیں کھیل سکتا جس کے ہاتھ مظلوم فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں‘۔

نوران کے فیصلے کی حمایت اُن کے کوچ عمار بینی نے بھی جس پر اولمپک کمیٹی نے انہیں بھی وطن واپس بھیج دیا۔

جوڈو کھلاڑی اور اُن کے کوچ نے اولمپک کمیٹی کے فیصلے کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ اسرائیلی مخالفت پر ہمیں کیوں نشانہ بنایا گیا، مقابلے کرنا یا انکار ہمارا حق ہے، جس کا قوانین میں بھی ذکر موجود ہے‘۔

تیس سالہ فتحی نوران کہتے ہیں اولمپکس تک پہنچنے کےلیے بہت محنت کی، لیکن مسئلہ فلسطین ان سب چیزوں سے بڑھ کر ہے۔ کوچ عمار بینی نے کہا میچز کی قرعہ اندازی میں قسمت نے ساتھ نہیں دیا اور اسرائیلی کھلاڑی ہمارے مدمقابل آگیا، ایونٹ سے دستبرداری کا ہمارا فیصلہ درست ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق فتحی نوران نے اس سے قبل بھی فلسطینی جارحیت پر احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اسرائیلی کھلاڑی کے ساتھ مقابلے سے صاف انکار کردیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں