The news is by your side.

Advertisement

‘مرغی کا گوشت اسلئے مہنگا ہے کہ ہماری انڈسٹری کا کام بند ہے’

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے ریسٹورنٹس کو ٹیک اوے کی اجازت دینے کے بعد آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن نے ایک اور مطالبہ کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے کنوئنیر وقاص عظیم نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 23 سے 35 لاکھ افراد کا روزگار اس انڈسٹری سے وابستہ ہے،سروس سیکٹر میں دوسرے نمبر پر ہم سب سے زیادہ ٹیکس دیتےہیں۔

وقاص عظیم نے کہا کہ عالمی وبا کرونا کے باعث گذشتہ چودہ ماہ میں سے 12 ماہ ہمارا کاروبار بند رہا، اب یہ نوبت آگئی ہے کہ تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں، ہمارے پاس بچوں کی اسکولوں کی فیسوں کے پیسے نہیں ہیں۔آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے کنوئنیر وقاص عظیم کا اپنی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ مرغی کا گوشت اسلئے مہنگا ہے کہ ہماری انڈسٹری کا کام بند ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت سے رابطہ ہوا ہے، وزیراعلیٰ نے چوبیس گھنٹے ٹیک اوے کی اجازت دے دی ہے، اس پر وزیراعلی سندھ کے شکر گزار ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں محدود لوگوں کے ساتھ ریسٹورنٹ کھولنے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے عید کے موقع پر ریسٹورنٹس کو ٹیک اوے کی اجازت دے دی

واضح رہے کہ آج وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ سندھ نے ریسٹورنٹ کو ٹیک اوےکی اجازت دے اور کہا کہ ریسٹورنٹس کو کرسی لگانے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹیک اوے کے لیے کوئی اپنی گاڑی سے نہیں اترے گا۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس رمضان کے پہلے ہفتے میں 4.71 فیصد کیسز اور 23 اموات ، دوسرے ہفتے میں 6.31 فیصد کیسزاور43 اموات ۔، تیسرے ہفتے میں6.96 فیصد کیسز اور 62 اموات اور چوتھے ہفتے میں 7.08 فیصد کیسز اور 64 اموات ہوئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں