The news is by your side.

Advertisement

علّامہ اقبال کی غزل اور گلوکار شوکت علی

شاعرِ مشرق علّامہ اقبال کی ایک خوب صورت غزل قارئین کے ذوق کی تسکین کے لیے پیش ہے جو پاکستان کے نام وَر گلوکار شوکت علی کی آواز میں‌ بے حد مقبول ہوئی۔

شوکت علی پاکستان میں لوک موسیقی کے حوالے سے معروف ہیں۔ انھوں نے نام ور شعرا کا کلام گایا اور ان کی آواز میں ہر غزل اور نغمہ مقبول ہوا۔ ان دنوں شوکت علی علیل ہیں اور اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

انھوں نے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران اپنی آواز میں متعدد ملی نغمات پیش کیے تھے اور‌ قوم میں جوش و ولولہ پیدا کیا تھا۔ علّامہ اقبال کی اس غزل کو شوکت علی کے علاوہ بھی چند معروف گلوکاروں نے گایا ہے۔ کلام ملاحظہ کیجیے۔

نگاہِ فقر میں شان سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے

خوش آ گئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے شاعری کیا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں