The news is by your side.

Advertisement

زبان، دل کی امین اور روح کی ایلچی!

اے میری بلبل ہزار داستان! اے میری طوطیِ شیوہ بیان! اے میری قاصد! اے میری ترجمان! اے میری وکیل! اے میری زبان، سب بتا۔ تُو کس درخت کی ٹہنی اور کس چمن کا پودا ہے کہ تیرے ہر پھول کا رنگ جدا ہے اور تیرے ہر پھل میں ایک نیا مزہ ہے۔

کبھی تُو ایک ساحر، فسوں ساز ہے جس کے سحر کا رد، نہ جادو کا اتار۔ کبھی تو ایک افعیِ جاں گداز ہے، جس کے زہر کی دارو، نہ کاٹے کا منتر۔

تُو وہی زبان ہے کہ بچپن میں کبھی اپنے ادھورے بولوں سے غیروں کا جی لبھاتی تھی اور کبھی اپنی شوخیوں سے ماں باپ کا دل دکھاتی تھی۔ تُو وہی زبان ہے کہ جوانی میں کہیں اپنی نرمی سے دلوں کا شکار کرتی تھی اور کہیں اپنی تیزی سے سینوں کو فگار کرتی تھی۔

اے میری زبان دشمن کو دوست بنانا اور دوست کو دشمن کر دکھانا تیرا ایک کھیل ہے جس کے تماشے سیکڑوں دیکھے اور ہزاروں دیکھنے باقی ہیں۔

ارے میری بنی بات کی بگاڑنے والی، میرے بگڑے کاموں کو سنوارنے والی۔ روتے کو ہنسانا اور ہنستے کو رلانا، روٹھے کو منانا اور بگڑے کو بنانا نہیں معلوم تُو نے کہاں سیکھا؟ اور کس سے سیکھا؟ کہیں تیری باتیں بِس کی گانٹھیں ہیں۔ اور کہیں تیری بول شرب کے گھونٹ ہیں۔ کہیں تُو شہد ہے اور کہیں حنظل۔ کہیں تو زہر ہے اور کہیں تریاق۔

اے زبان ہمارے بہت سے آرام اور بہت سی تکلیفیں۔ ہمارے ہزاروں نقصان اور ہزاروں فائدے، ہماری عزت، ہماری ذلّت۔ ہماری نیک نامی، ہماری بدنامی، ہمارا جھوٹ، ہمارا سچ تیری ایک ہاں اور ایک نہیں پر موقوف ہے۔ تیری اس ہاں اور نہیں نے کروڑوں کی جانیں بچائیں اور لاکھوں کا سَر کٹوایا۔

اے زبان تُو دیکھنے میں تو ایک پارۂ گوشت کے سوا نہیں، مگر طاقت تیری نمونۂ قدرتِ الٰہی ہے۔ دیکھ اس طاقت کو رائیگاں نہ کر۔ اور اس قدرت کو خاک میں نہ ملا۔ راستی تیرا جوہر ہے اور آزادی تیرا زیور۔ دیکھ اس جوہر کو برباد نہ کر اور اس زیور کو زنگ نہ لگا۔

تُو دل کی امین ہے اور روح کی ایلچی۔ دیکھ دل کی امانت میں خیانت نہ کر۔ اور روح کے پیغام پر حاشیے نہ چڑھا۔

اے زبان! تیرا منصب بہت عالی ہے اور تیری خدمات نہایت ممتاز۔ کہیں تیرا خطاب کاشفِ اسرار ہے اور کہیں تیرا لقب محرمِ راز۔ علم ایک خزانہ غیبی ہے۔ اور دل اس کا خزانچی۔ حوصلہ اس کا قفل ہے۔ اور تو اس کی کنجی دیکھ اس قفل کو بے اجازت نہ کھول۔ اور اس خزانے کو بے مواقع نہ اٹھا۔ وعظ و نصیحت تیرا فرض ہے اور تلقین و ارشار تیرا کام۔

ناصحِ مشفق تیری صفت ہے اور مرشد بَرحق تیرا نام۔ خبردار! اس نام کو عیب نہ لگانا اور اس فرض سے جی نہ چرانا، ورنہ یہ منصب عالی تجھ سے چھن جائے گا اور تیری بساط میں وہی ایک گوشت کا چھچڑا رہ جائے گا۔ کیا تجھ کو یہ امید ہے کہ تو جھوٹ بھی بولے اور طوفان بھی اٹھائے۔ تُو غیبت بھی کرے اور تہمت بھی لگائے۔ تُو فریب بھی دے اور چغلیاں بھی کھائے اور پھر وہی زبان کہلائے۔ نہیں! ہرگز نہیں!

اگر تُو سچی زبان ہے تو زبان ہے، ورنہ زبوں ہے بلکہ سراسر زیاں ہے۔ اگر تیرا قول صادق ہے تو شہد فائق ہے، ورنہ تھوک دینے کے لائق ہے۔ اگر تو راست گفتار ہے تو ہمارے منہ میں اور دوسروں کے دلوں میں جگہ پائے گی ورنہ گدی سے کھینچ کر نکالی جائے گی۔

اے زبان! یاد رکھ ۔ ہم تیرا کہا نہ مانیں گے اور تیرے قابو میں ہرگز نہ آئیں گے۔ ہم تیری ڈور ڈھیلی نہ چھوڑیں گے اور تجھے مطلق العنان نہ بنائیں گے۔ ہم جان پر کھیلیں گے، پَر تجھ سے جھوٹ نہ بلوائیں گے۔ ہم سَر کے بدلے ناک نہ کٹوائیں گے۔

الٰہی! اگر ہم کو رخصتِ گفتار ہے تو زبان راست گفتار دے اور دل پر تجھ کو اختیار ہے، زبان پر ہم کو اختیار دے۔ جب تک دنیا میں رہیں سچّے کہلائیں۔ اور جب تیرے دربار میں آئیں تو سچّے بن کر آئیں (آمین)

(انشائیہ از خواجہ الطاف حسین حالی)

Comments

یہ بھی پڑھیں