برلن: اسلامک کانفرنس خنزیر کا گوشت پیش کرنے پر ہنگامہ Germany Islam event
The news is by your side.

Advertisement

برلن: اسلامک کانفرنس خنزیر کا گوشت پیش کرنے پر ہنگامہ

برلن : جرمنی میں منعقدہ اسلامک کانفرنس میں پیش کیے گئے کھانے میں خنزیر کے گوشت سے بنی ڈش رکھنے پر کانفرنس تنازع کا شکار ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق جرمنی کے شہر برلن میں وزارت داخلہ کے زیر اہتممام منعقدہ اسلامک کانفرنس میں مختلف مذاہب کے افراد کی شرکت کے باعث کھانے مختلف انواع کے رکھے گئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جرمنی کے وزیر داخلہ نے کھانے میں سوسیج رکھنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو میں معافی مانگتا ہوں۔

خیال رہے کہ مذکورہ کانفرنس ہورسٹ زیہوفر نے منعقد کی تھی اور زیہوفر نے ہی رواں برس مارچ میں کہا تھا کہ اسلام کا جرمنی سے کوئی تعلق نہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ زیہوفر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا وہ جرمنی میں اسلام چاہتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہورسٹ زیہوفر جرمنی میں مقیم مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ زیہوفر مسلمانوں کی اکثریت حاصل نہیں کر پائیں گے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے کھانے میں کل 13 پکوان تھے اور ان میں سبزیاں، گوشت اور مچھلی شامل تھی جبکہ بوفے میں رکھے گئے پکوانوں کے بارے میں واضح الفاظ میں لکھا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سنہ 2006 میں منعقد ہونے والی اسلامک کانفرنس کے دوران رکھے گئے کھانے میں بھی سور کا گوشت رکھا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ساتھ رہنے والوں مسلمان قدرتی طور پر جرمنی کی ملکیت ہیں اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے رسم و رواج کو دوسروں کے لیے چھوڑ دیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں