The news is by your side.

Advertisement

مزید ایک ہزار یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے

ماسکو: روس کا کہنا ہے کہ مزید ایک ہزار یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق روسی حکام کا کہنا ہے کہ ماریوپول میں اسٹیل کی ایک بڑی فیکٹری کا دفاع کرنے والے تقریباً 1000 یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

یہ اعلان بدھ کے روز سامنے آیا ہے جب نہایت اہم ساحلی شہر ماریوپول کی لڑائی ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم یوکرین نے اس کارروائی کو ‘ہتھیار ڈالنا’ قرار دینے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کے یہ فیکٹری پوری جنگ کے دوران یوکراینی مزاحمت کی علامت بنی رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ازوستال فیکٹری کا دفاع کرنے والے باقی فوجیوں کا کیا ہوگا، یوکرین کو قیدیوں کے تبادلے کی امید ہے، لیکن روس نے کہا ہے کہ کچھ کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی فوجیوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

روس یوکرین جنگ میں دونوں فریق جنگ کی سب سے اہم اور مہلک لڑائیوں میں سے ایک یعنی ‘پروپیگنڈا فتوحات’ حاصل کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے ہیں۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے بدھ کو کہا کہ اس کی صرف ایک تشریح ہو سکتی ہے کہ ازوستال میں موجود فوجی اپنے ہتھیار ڈال رہے ہیں اور سرنڈر کر رہے ہیں۔ روسی وزارت دفاع کی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یوکرینی فوجی اپنے زخمیوں کو باہر لے جا رہے ہیں اور ہتھیاروں کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

دوسری طرف روس نے فرانس، اٹلی اور اسپین کے 85 سفارت کاروں کو نکال دیا ہے، یوکرین پر حملے کے بعد سے فرانس، اسپین اور اٹلی بھی 300 روسی سفارت کاروں کو نکال چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں