پیرس : یہودی مخالف افراد کا بیکری پر نسل پرستانہ حملہ Anti-Semitic attack
The news is by your side.

Advertisement

پیرس : یہودی مخالف افراد کا بیکری پر نسل پرستانہ حملہ

پیرس : فرانس میں یہودی مخالف افراد  نے بیکری پر نسل پرستانہ جملہ تحریر کردیا، بیکری کے مالک کا کہنا ہےکہ فرانس میں گزشتہ برس سے یہودی مخالف واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سماجی رابطے کے ویب سائیٹ فیس بک پر ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پیرس کی مشہور بیکری کی کھڑکی پر جرمن زبان میں زرد رنگ سے یہودی مخالف الفاظ تحریر تھے۔

بیکری کے مالک کا کہنا تھا کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب یہ واقعہ پیش آیا تھا جبکہ اس سے قبل بیکری کی کھڑیاں بھی توڑی جاچکی ہیں۔

بیکری مالک کا کہنا تھا کہ گرافیتی (نقش کاری) میں بہت اہمیت کا حامل ہے صرف اس لیے نہیں کہ فرانس میں یلو ویسٹ مظاہرے ہورہے ہیں بلکہ ماضی میں نازی فورسز یہودیوں کو بازو پر ایک یلو رنگ کا بینڈ پہننے پر مجبور کرتی تھیں جس پر چھ کونوں کا ستارہ بنا ہوتا تھا۔

فرانس کے وزیر داخلہ کریسٹوپی کیسٹینر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا کہ ’ہم اس شرمناک حرکت کی مذمت کرتے ہوئے اور واقعے میں ملوث مجرم کو گرفتار کرنے کےلیے ہرممکن کوشش کریں گے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی یہودی کونسل نے کہا کہ ’یہ ایک نفرت انگیز عمل تھا‘۔

دنیا بھر میں یہودی مخالف حملوں کے حوالے سے مرتب کی گئی اسرائیلی رپورٹس کے مطابق 2018 کے دوران فرانس میں یہودی مخالف حملوں میں 69 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں : جرمنی میں’یہودی ٹوپی‘ پہنا شخص تشدد کا نشانہ بن گیا

فٹبال ورلڈ کپ 2018: انگلینڈ کے مداحوں کی یہودی مخالف گانے کی ویڈیو وائرل

خیال رہے کہ اس سے قبل جرمنی اور روس سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں بھی ایسے یہودی مخالف حملے ہوچکے ہیں۔

گزشتہ برس جرمنی میں ایک شامی پناہ گزین نے عرب اسرائیلی کو یہودی کہہ کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائر ہونے کے بعد  جرمنی کی عدالت نے شامی مہاجر کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے قید کی سزا سنائی تھی۔

دوسری جانب سے گزشتہ برس روس میں کھیلے گئےعالمی فٹبال ورلڈ کپ کے دوران انگلینڈ ٹیم کے مداحوں نے مبینہ طور پر یہودیت مخالف اور جرمنی کے سابق ڈیکٹیٹر ایڈ ولف ہٹلر کی حمایت میں کھڑے ہوکر گانا گایا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔