The news is by your side.

Advertisement

جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے نتائج عالمی امن کے لیے خطرہ ہوں گے، انتونیو گتریس

نیویارک : اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے معاہدے کو ختم کیا تو عالمی امن کو خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے بیان پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے کہا ہے کہ امریکا نے اس جوہری معاہدے کو ختم کردیا تو دنیا کو جنگ کے خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سنہ 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے سے اس وقت تک باہر نہ نکلے، جب تک جوہری معاہدے سے بہتر کوئی اور متبادل نہ ملے۔

انتونیو گتریس نے گذشتہ روز غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا بین الااقوامی جوہری معاہدے کو ختم نہ کرے، اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے رکن ممالک بھی امریکی صدر ٹرمپ کو معاہدے پر باقی رہنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ برطانیہ فرانس اور جرمنی کے سربراہوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ ہونے والا جوہری معاہدہ ہرگز ختم نہ کرے، مذکورہ معاہدے کے ذریعے ہی تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر اوبامہ کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے کو ’دیوانگی‘ کا قرار دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ منگل کے روز اسرائیل نے وزیر اعظم نتین یاہو نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران معاہدے کے باوجود جوہری اسلحے کی تیاری میں لگا ہوا ہے، اس حوالے سے نتین یاہو نے 55 صفحات پر مشتمل کچھ خفیہ ایٹمی دستاویزات شائع کی تھیں۔

نیتن یاہو کی جانب سے ایران پر الزامات عائد کیے جانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی پیش کردہ خفیہ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے جوہری منصوبوں کے حوالے عالمی طاقتوں کو اندھیرے میں رکھا۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ اسرائیل نے مذکورہ اقدامات جوہری معاہدوں کے حوالے آئندہ دنوں کے جانے والے ٹرمپ کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش تھی۔

واضح رہے کہ فرانس کیہ جانب امریکی صدر کو مشورہ دیا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ نیا جوہری معاہدہ کیا جاسکتا ہے، جس پر ایرانی صدر نے کہا تھا کہ موجودہ جوہری معاہدے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ چھ امریکا اور روس سمیت چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان سنہ 2015 میں ایران کے جوہری منصوبوں کی روک تھام کےلیے ایک معاہدہ کیا گیا تھا جس کے بعد مغربی ممالک نے ایران پر گذشتہ کئی برس سے عائد اقتصادی پابندیاں اٹھالی گئی تھیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں