The news is by your side.

Advertisement

انور مسعود، جس نے قہقوں سے مسائل بیان کیے

لاہور: نامور پاکستانی مزاحیہ شاعر انور مسعود آج اپنی 84ویں سالگرہ منارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق انور مسعود کی پیدائش 8 نومبر 1935ء کو گجرات، پاکستان میں ہوئی، بعد ازاں آپ کے والد وہاں سے لاہور منتقل ہوگئے تھے۔انور مسعود نے ابتدائی تعلیم لاہور میں ہی حاصل کی جس کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ دوبارہ گجرات منتقل ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے گجرات زمیندارا کالج سے ایم اے فارسی کی ڈگری حاصل کی۔

انور مسعود معروف شاعر ہونے کے ساتھ مختلف زبانوں پر مہارت رکھتے ہیں جنہیں نہ صرف وہ پڑھ سکتے بلکہ انہیں سمجھ اور لکھ بھی سکتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے مختلف کالجوں میں فارسی کے پروفیسر رہے۔

انور مسعود کے اب تک گیارہ مجموعے شائع ہوئے جن میں سے کچھ پنجابی جبکہ بقیہ اردو زبان میں ہیں، انہوں نے ’فارسی ادب کے چند گوشے‘ کے نام سے مقالے کو بھی کتابی شکل میں شائع کروایا۔

تصانیف

میلہ اکھیاں دا – پنجابی (پنجاب رائٹرز گلڈ انعام یافتہ)

شاخ تبسم – اردو

غنچہ پھر لگا کھلنے – اردو

میلی میلی دھوپ – اردو

اک دریچہ اک چراغ – اردو

قطعہ کلامی -(اردو قطعات)

فارسی ادب کے چند گوشے -(مقالے)

ہُن کیہ کریئے؟ -(پنجابی کلام) (ہجرہ انعام یافتہ)

تقریب (تعارفی مضامین۔ اُردو)

درپیش – (مزاحیہ اردو)

بات سے بات -(مضامین)


آپ کی مزاحیہ اور سنجیدہ شاعری نے بہت ہی کم عرصے میں خاصہ بلند مقام حاصل کیا، اُن کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

مرد ہونی چاہیے خاتون ہونا چاہیے

اب گرامر کا یہی قانون ہونا چاہیے

***

وہ جو دودھ شہد کی کھیر تھی

وہ جو نرم مثل حریر تھی

وہ جو آملے کا اچار تھا

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

***

غم و رنج عاشقانہ نہیں کیلکولیٹرانہ

اسے میں شمار کرتا جو نہ بے شمار ہوتا

وہاں زیر بحث آتے خط و خال و خوئے خوباں

غم عشق پر جو انورؔ کوئی سیمینار ہوتا

***

ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ

قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ

بلی تو یوں ہی مفت میں بدنام ہوئی ہے

تھیلے میں تو کچھ اور تھا سامان وغیرہ

انور مسعود نے اپنی سالگرہ کا دن اہل خانہ کے ساتھ گزارا اور کیک کاٹا، پاکستان بھر میں اُن کے چاہنے والوں نے مزاحیہ شاعر کے لیے عمرِ خضر اور خوشیوں کے پیغامات بھی بھیجے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں