The news is by your side.

Advertisement

ایپل اور ایمازون سعودی عرب میں براہ راست سرمایہ کاری کی خواہش مند

ریاض: سعودی حکومت کی روشن خیال پالیسی کے تحت موبائل فون بنانے والی دو معروف کمپنیوں ایپل اور ایمازون نے سعودی عرب میں کاروبار شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے 2030 وژن کے تحت ملک میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جن میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے، لڑکیوں کے موبائل فون استعمال کرنے سمیت مختلف چیزیں شامل ہیں۔

سعودی حکومت کی روشن خیالی کو مدنظر رکھتے ہوئے موبائل فون بنانے والی دو بڑی کمپنیوں ایپل اور ایمازون نے ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ریاض سمیت مختلف علاقوں میں اپنی فرنچائزز کھولنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔

سعودی اخبار کے مطابق ایپل کمپنی کے منتظمین سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے سعودی حکومت سے بات چیت میں مصروف ہیں جبکہ ایمازون نے بھی معاملات طے کرلیے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا سرمایہ کاروں کو گرین کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ

واضح رہے کہ سعودی عرب میں دونوں کمپنیاں تیسری کمپنی (تھرڈ پارٹی) کی وساطت سے موبائل فون فروخت کررہی ہیں تاہم اب دونوں براہ راست سرمایہ کاری کرنے کی خواہش مند ہیں۔

سعودی ولی عہد نے تیل کی پیداوار میں کمی اور عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ 2 سالوں کے دوران ایسی کاروباری پالیسیاں تشکیل دی ہیں کہ غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری کرنے میں دلچپسی ظاہر کریں۔

اطلاعات کے مطابق آئندہ برس فروری تک دونوں کمپنیوں کا حکومت سے معاہدہ طے ہوجائے گا جس کے بعد ایپل اور ایما زون براہ راست سعودی عرب میں براہ راست کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کرسکیں گی۔

خیال رہے کہ رواں سال کے وسط میں سعودی حکومت اور ولی عہد نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے اہم فیصلے کے بعد طالبات کو یونیورسٹیوں میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں سنیما انڈسٹری آئندہ برس بحال ہوگی

بعد ازاں سعودی حکومت نے روشن خیالی  کی سمت ایک اور قدم آگے بڑھاتے ہوئے سرکاری چینل پر عرب لیجنڈ گلوکارہ ام کلثوم کا میوزک کنسرٹ نشر کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلیاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کا حصہ ہیں۔ جس کے تحت دارالحکومت ریاض کے نزدیک ایک عظیم الشان تفریحی شہر بنایا جائے گا، جن میں گالف کورسز، کار ریسنگ ٹریک اور سنیما گھروں کی تعمیر شامل ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس بھی سعودی عرب سے سنیما انڈسٹری کی بحالی کے ساتھ عشروں پر محیط ثقافتی جمود ٹوٹنے کی خبریں آئی تھیں اور سعودی ثقافت اور فنون ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلطان البازی نے اسے بدلتی ہوئی سماجی تبدلیوں کا نتیجہ قرار دیا تھا، تاہم پھر یہ معاملہ تاخیر کا شکار ہوگیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں