The news is by your side.

Advertisement

بچوں کا تحفظ اور زیادتی کے واقعات کی روک تھام، عدالت میں درخواست دائر

لاہور: قصور میں 8 سالہ زینب واقعے کے بعد بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام  کی  قانون سازی کے لیے ہائی کورٹ میں  درخواست دائر کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق زینب کے قتل کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کی قانون سازی کے لیے صفدر شاہین پیرزادہ ایڈوکیٹ نے درخواست دائر کردی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بچوں سے زیادتی اور قتل کے لرزہ خیز واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا، مؤثر قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان آزادا گھوم رہے ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بچوں سے زیادتی اور قتل جیسے جرائم پر قانون سازی اور سخت ترین سزا کا نہ ہونا حکومت کی بے حسی کا ثبوت ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کی مقتولہ زینب کےگھرآمد‘ اہلِ خانہ سےتعزیت

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کے ضلع قصور میں بچوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت حکومت کو اس حوالے سے سخت قانون سازی کرنے کے احکامات جاری کرے اور زینب قتل کیس میں ملزمان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل قصور کی 8 سالہ بچی کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا تھا، زینب کو پانچ روز قبل گلی سے اغوا کر کے نامعلوم شخص اپنے ہمراہ لے گیا تھا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیچ بھی منظر عام پر آئی۔

یہ بھی پڑھیں: زینب کا قتل: قصورشہرکی فضا دوسرےروزبھی سوگوار

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شدید احتجاج کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے از خود نوٹس لیا جبکہ آرمی چیف نے بھی حکومت کی مدد کی پیش کش کی۔

قصور میں گزشتہ روز جنازے سے قبل علاقہ مکینوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جن کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے براہ راست فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ننھی زینب کا قاتل گرفتار کر لیا گیا: احمد رضا قصوری کا دعویٰ

کچھ دیر قبل خورشید قصوری نے دعویٰ کیا تھا کہ زینب سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار ہوچکا تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان کے ترجمان نے قاتل کی گرفتار ی سے متعلق بیان کو غلط قرار دیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں