The news is by your side.

Advertisement

10 اپریل: ملکی سیاست کی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور یادگار دن

مارشل لاء 31 دسمبر 1985 کو اٹھا لیا گیا تھا اور اس کے اگلے ہی سال اپریل میں بے نظیر بھٹو بھی وطن واپس آگئیں جسے ملکی سیاست کی تاریخ میں نہایت اہم اور یادگار دن قرار دیا جاتا ہے۔

لاہور میں سیاسی کارکنوں اور عوام نے بے نظیر بھٹو کا فقیدُ المثال استقبال کیا۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے راہ نماؤں، طلبہ اور مختلف شہری تنظیموں کی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ ملک بھر میں صحافیوں اور دانشوروں کے لیے ضیاءُ‌ الحق کا دورِ آمریت پھانسی کے پھندوں، کوڑوں کی سزاؤں، احتجاجی مظاہروں‌ کے دوران بدترین تشدد سہتے ہوئے اور جیل یا پھر عدالتوں میں‌ اپنے خلاف مختلف جھوٹے مقدمات لڑتے ہوئے گزرا تھا اور 1986ء میں انھیں نوجوان سیاسی لیڈر نے اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ اعلان کیا گیا تھا کہ 10 اپریل کو پیپلز پارٹی کی شریک چیئر پرسن بے نظیر بھٹو تین سالہ جلا وطنی ختم کرکے پاکستان واپس آ رہی ہیں۔

بے نظیر بھٹو اس جلاوطنی سے قبل کئی سال اپنے وطن میں نظر بند رہی تھیں۔ اس روز صبح کے وقت وہ بذریعہ ہوائی جہاز لاہور پہنچیں جہاں سیاسی جماعت کی اس قائد اور عوامی راہ نما کو مینارِ پاکستان پر جلسۂ عام سے خطاب کرنا تھا۔ بے نظیر بھٹو کی آمد پر ان کا استقبال ملک کی تاریخ کا ایک اہم اور نہایت منفرد و شان دار واقعہ ثابت ہوا۔ اس روز لاکھوں لوگ لاہور کی سڑکوں پر موجود تھے۔ محترمہ مینارِ پاکستان پہنچیں، لیکن عوام کے جلوس کی وجہ سے صرف 9 میل کا فاصلہ لگ بھگ دس گھنٹے میں طے ہوا۔ اس موقع پر کئی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور جیالے اپنی قائد کی آمد کی خوشی کے ساتھ بھٹو خاندان کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ لاہور کے بعد بے نظیر بھٹو نے گوجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا، جہلم اور راولپنڈی کے بھی دورے کیے اور ہر جگہ عوام کا سمندر تھا اور لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو 3 مئی 1986ء کو کراچی پہنچیں جہاں شاہراہِ قائدین پر پارٹی کی جانب سے ایک جلسے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ خطاب کے لیے جلسہ گاہ پہنچنے کے لیے بھی انھیں کئی گھنٹے سفر کرنا پڑا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں