site
stats
عالمی خبریں

برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے فوجی آپریشن

ڈھاکا: اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلق قائم ذیلی ادارے کا کہنا ہے کہ میانمار  (برما) کی فوج مسلمان مردوں بچیوں اور خواتین کو بے دردی سے قتل کرتے ہوئے اُن کی نسل کشی میں مصروف ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے پناہ گزین (یو این سی ایچ آر) کے بنگلہ دیش میں تعینات عہدیدار جان مک کسک نے کہا ہے کہ میانمار کی فوج مسلمانوں پر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظالم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج کی جانب سے جاری ظلم و جبر سے 30 ہزار سے زائد مسلمان متاثر ہوئے ہیں، میانماری فوجی روہنگیا کے مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہے اور مردوں، بچوں کو بے دردی سے قتل جبکہ خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہی ہے۔


پڑھیں: ’’ برما : ایک بار پھر بدھ مت حکومت کا مسلمانوں پر بد ترین تشدد ‘‘


اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور فوج کی جانب سے مظالم کے باعث روہنگیا کے مظلوم لوگ برما سے نکل کر بنگلہ دیش میں پناہ حاصل کرنے کے لیے ہجرت کررہے ہیں۔

دوسری جانب بنگلہ دیش نے اقوام متحدہ کی جانب سے روہنگیا کے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ میانمار حکومت سے مظالم کو روکوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

یو این ایس ایچ آر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بنگلہ دیش متاثرین کے لیے اپنی سرحدین کھول کر ملک کے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا، بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ میانمار کے لوگ اپنے ہی ملک میں رہیں۔

علاوہ ازیں برما کی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے آنے والی تمام خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ یا کوئی اور ملک ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے اور اس طرح کی جھوٹی خبروں سے گریز کرے۔

واضح رہے برما بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کا اکثریتی ملک ہے، یہاں کے مسلمان لمبے عرصے سے ظلم و تشدد کا شکار ہے جس کے باعث اب تک سینکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top