The news is by your side.

Advertisement

مصنوعی ذہانت اب ٹریفک کنٹرول بھی کرے گی

نیو یارک: اقوام متحدہ نے سڑکوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فروغ اور اس کے استعمال کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق روڈ سیفٹی اقدام کے حوالے سے اقوام متحدہ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ تمام ممالک اور سرمایہ کاروں کو سڑکوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فروغ اور اس کے استعمال کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) میں دنیا بھر میں سڑکوں پر ٹریفک حادثات میں اموات کی سالانہ شرح کو نصف کرنے اور دو ہزار تیس تک ہر ایک کے لیے محفوظ ، سستی اور پائیدار ٹرانسپورٹ رسائی کو یقینی بنانے کی کوششوں کا آغاز ہے۔

عالمی دارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تقریباً 13لاکھ افراد سالانہ ٹریفک حادثات کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، دو کروڑ سے پانچ کروڑ افراد زخمی ہوتے ہیں جن میں سے بہت سے زخمی معذوری کا سامنا کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت مختلف طریقوں بشمول حادثات کے اعدادو شمار کے بہتر انتظام و تجزیہ ، سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے ، حادثے کے بعد کے ردعمل کی کارکردگی میں اضافے ، اور ریگولیٹری فریم ورک میں جدت لاکر مدد کرسکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس نقطہ نظر سے اعداد و شمار تک مساوی رسائی اور الگورتھم کے اخلاقی استعمال کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ بہت سے ممالک میں اس وقت موجود نہیں ، جس کی وجہ سے وہ روڈ سیفٹی کے طریقوں سے آگاہی حاصل نہیں کرسکتے۔

آئی ٹی یو کے سیکرٹری جنرل ہولن ژاؤ نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں سڑکوں پر ہونے والی اموات کی غیر متناسب تعداد کے تناظر میں یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کے فوائد ہر کسی کواور ہرجگہ پہنچنے چاہئیں۔

روڈ سیفٹی ایلچی جین ٹوڈ نے کہا کہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل اور روڈ سیفٹی میں پائی جانے والی تقسیم کو ختم کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے لامحدود مواقع ہیں جن سے استفادہ نہیں کیاگیا۔

نئے اقدام کا مقصد سرکاری اور نجی شعبوں میں عالمی سطح پران کوششوں کو مستحکم کرنا ہے تاکہ روڈ استعمال کرنے والوں کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔

ٹیکنالوجی سے متعلق اقوام متحدہ کے ایلچی ماریہ، فرانسیسکا سپاٹولیسانو کے مطابق یہ اقدام حقیقی دنیا میں ٹیکنالوجی کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ایک قابل ذکر عملی کوشش ہے جو لوگوں کی زندگیوں کو ایک لحاظ سے متاثر کرتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں