ashiana آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں کرپشن کے مزید انکشافات، کروڑوں کی رقم کہاں گئی؟
The news is by your side.

Advertisement

آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں کرپشن کے مزید انکشافات، کروڑوں کی رقم کہاں گئی؟

لاہور: آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل میں کرپشن کے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں، 61 ہزار افراد سے فی کس ایک ہزار روپے فارم فیس وصول کی گئی، کروڑوں کی اس رقم سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ کس مد میں اور کہاں خرچ ہوئی؟

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے پروجیکٹ آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل میں مزید انکشافات منظرعام پرآئے ہیں۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے 61 ہزارافراد کو ایک ایک ہزار روپے میں درخواست فارم فروخت کئے، جنہوں نے مذکورہ فارمز بھر کر پنجاب بینک میں جمع کرائے۔

فارمز لینے والوں کو بتایا گیا تھا کہ ان کے موبائل فون پر قرعہ اندازی کی اطلاع دی جائے گی تاہم قرعہ اندازی سے متعلق آج تک کسی بھی درخواست گزار کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

اس کے علاوہ یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ہاؤسنگ اسکیم کے درخواست فارموں کی مد میں عوام سے وصول کیے گئے 6 کروڑ10لاکھ روپے کس نے کھائے؟

ذرائع کے مطابق فارموں کی مد میں وصول کی گئی رقم کی مبینہ بندر بانٹ کی گئی، اس کے علاوہ آشیانہ اقبال اسکیم سے پہلے ہی پیراگون سوسائٹی پرنوازشات کی گئیں۔

پیراگون سوسائٹی سے ملحقہ سڑکیں بنا کر سوسائٹی کو فائدہ پہنچایا گیا، پروجیکٹ کیلئے سی فور درجہ کی کمپنی پیراگون ڈویلپرز کو ٹھیکہ دیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے پیراگون سوسائٹی سے براہ راست روابط ہیں۔

پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ذریعے آشیانہ اسکیم لانچ کی گئی تھی، مذکورہ اسکیم سے روابط کے الزام پرپی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی میں خواجہ سعد رفیق کو عہدے سے برطرف کرنے کیلئے قرار داد بھی جمع کرائی تھی۔

خیال رہے کہ 2012 میں میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز ہوا، منصوبے کے مطابق پانچ سال میں پچاس ہزار گھر تعمیر کئے جانے تھے لیکن دعوے حقیقت میں تبدیل نہ ہو سکے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانےکے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں