الیکشن 2018 ، آئندہ حکومت پیپلزپارٹی کی ہوگی، آصف زرداری asif-zardari
The news is by your side.

Advertisement

الیکشن 2018 میں فتح یاب ہوں گے، آئندہ حکومت پیپلزپارٹی کی ہوگی، آصف زرداری

کراچی : سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ مودی میرے کہنے پر تو نہیں آتے لیکن جب نوازشریف اقتدار میں آتا ہے تو فورآ پاکستان آجاتا ہے؟ 2018 الیکشن میں حکومت پیپلزپارٹی کی ہی بنے گی.

نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ نوازشریف پاکستان کی نفی کررہے ہیں اور ان کی سیاست کا انداز گریٹر پنجاب کی جانب بڑھ رہا ہے اور ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں ان کی انہی طرزعمل کی وجہ سے میں ان کو سیاست دان ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔

ڈان لیکس


انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار نے اشارہ دیا ہے کہ ڈان لیکس میں ان کا کردارنہیں ہے چوہدری نثار نے میاں صاحب کو اشارہ دیا ہے اب کوئی اور بولا تو وہ بولیں گے اس حوالے سے کی گئی انکوائری کو منظر عام پر آنا چاہیئے۔

مشرف کو میں نے نکالا 


انہوں نے کہا کہ مشرف کو میں نے اقتدار سے بیدخل کیا ورنہ وہ دوبارہ مارشل لاء لگا سکتے تھے، میں نے جمہوریت کو مشرف کے شکنجے سے نکالنے کیلئے مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں حکومت بنانے دی۔

سابق صدر نے کہا کہ اور اس ڈکٹیر کو اقتدار سے باہر نکال پھینکنے کی ہمت میرے سوا کسی اور میں نہیں ہوسکتی تھی جب کہ میاں صاحب نے مشرف کو بیرون ملک فرار ہونے کا موقع اس وقت فراہم کیا جب آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چل رہا تھا۔

پی ٹی آئی دھرنے سے میاں صاحب کو میں بچایا 


آصف زرادری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دھرنے کے دوران نوازشریف کچھ نہیں کرسکتےتھے اگر میں ان کے ساتھ نہ ہوتا تو نوازشریف پہلے ہی چلے جاتے لیکن میں نے ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر ان کا ساتھ دیا لیکن بعد میں انہوں نے مجھے پھنسانے کی کوشش کی۔

اگر آج تحریک انصاف کی سونامی بیٹھ گئی ہے تو اس کا کریڈٹ مجھے جانتا ہے ورنہ اگر میں نواز شریف کا ساتھ نہیں دیتا تو وہ کب کے حکومت سے باہر ہو چکے ہوتے اور قصہ تمام ہوچکا ہوتا۔

وزیراعظم ن لیگ کا ہے، جمہوریت کو خطرہ کیسا؟ 


انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)  کا اپنا وزیراعظم  ہے پھر یہ لوگ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت کوخطرہ ہے؟ اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوتا تو میں سب سے پہلے کھڑا ہوتا۔

نواز شریف نے مجھ پر مقدمات بنائے 


انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے نوے کی دہائی میں مجھ پر جھوٹے کیسز بنائے اگر ہونا ہوتا تو سی او ڈی اس وقت ہوتا اگر نیت صاف ہو تو چارٹر آف ڈیمو کریسی کی ضرورت نہیں ہوتی اس تمام باتوں کے باوجود ہم نے 2013 میں جمہوریت کی خاطر آر او الیکشن کوقبول کیا۔

سابق صدر نے کہا کہ اب نواز شریف کو رونا آرہا ہے دراصل بات یہ ہے کہ نوازشریف کے سامنے ان کے خودکردہ گناہ سامنے آ رہے ہیں اس لیے اس پر کسی اور کو الزام نہیں دیں۔

مودی نواز شریف کے دور حکومت میں ہی کیوں آتے ہیں؟ 


سابق صدر نے کہا کہ تعلقات اپنی جگہ لیکن میری دعوت پر تو مودی بھی نہیں آتا لیکن نوازشریف کے بلانے پرمودی صاحب چلے آتے ہیں اور بھارت کے پراڈکٹس پاکستان آرہے ہیں، یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر مودی کے اچانک یہاں آنے کی کیا وجوہات ہیں؟

انہوں نے کہا کہ بھٹو خاندان کی تین نسلوں کا بھارتی حکمرانوں سے تعلق رہا ہے لیکن ہم نے کبھی اپنے دور حکومت میں کسی بھارتی حکمراں کو مدعو نہیں کیا اور نہ خود پینگیں بڑھائی۔

الیکشن 2018 میں حکومت ہم بنائیں گے 


آصف زرداری کے پی کے میں سونامی اب بیٹھ رہی ہے اور لوگ پیپلز پارٹی کی جانب دیکھ رہے ہیں جس کا اندازہ سب کو 2018 کے الیکشن میں ہو گا جب پاکستان پیپلز پارٹی حکومت بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں اتنی اہلیت اور صلاحیت ہے کہ پورے ملک سے منتخب ہو سکتی ہے اور انشاءاللہ چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی ہی حکومت بنائے گی۔

پارلیمنٹ کو اختیار میں نے دیا 


سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ موسم ٹھیک ہونے پرمیں واپس آگیا ہوں ویسے بھی سیاست کا مقصد ہی ٹائمنگ ہے جب ایک دوسرے کو گالی دی جارہی تھی تو کچھ ریسٹ کرنے کا سوچا اس لیے چلا گیا تھا، میں پہلے بغیر پڑھے سو نہیں سکتا لیکن آج کل پڑھتا نہیں بلکہ سنتا ہوں۔

آصف زرداری نے کہا کہ پارلیمنٹ سے پاورزکی منتقلی کی ڈیمانڈ نہیں آرہی تھی لیکن اس کے باوجود میں نے اختیارات پارلیمنٹ کو دیے اور بغیر کسی کے کہے تمام پاورز پارلیمنٹ کو منتقل کردی ہیں۔

نواز شریف نے جمہوریت کے خلاف سازش کی 


سابق صدر نے کہا کہ میمو گیٹ میں نوازشریف کالا کوٹ پہن کرعدالت پہنچ گئے تھے تب انہیں جمہوریت کے خلاف سازش کا خیال نہیں آیا؟ جب وزیراعظم گیلانی کو نااہل کیا گیا تب انہوں نے خوشی سے بغلیں بجائیں لیکن ہم نے صبر سے کام لیا۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف ہمیشہ ووٹ کے ذریعے نہیں پاور کے ذریعے آئے اس لیے پارلیمنٹ کی اہمیت سے نابلد ہیں وہ چارسال میں صرف 4 بارپارلیمنٹ آئے آج نوازشریف کو خود کردہ گناہوں کا سامنا ہے۔

جمہوریت کو کیا خطرہ ہے ؟


انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا اپنا وزیراعظم ہے پھر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے؟ ماضی میں بھی نوازشریف کے وطن واپسی پر200 لوگ بھی استقبال کے لیے موجود نہیں تھے اور آج بھی جب ن لیگ کی حکومت ہے، 10 ہزار نفری جی ٹی روڈ پران کی اپنی تھی لیکن عوام نہیں تھی۔

سابق صدر نے کہا کہ را ایجنٹس افغانستان کے راستے یہاں آتے ہیں جس پر حکومت بھرپور آواز اُٹھانی چاہیئے لیکن موجودہ حکومت کی دلچسپیاں کچھ اور ہیں اسی طرح مسئلہ کشمیر کے ایشوپر بھی میاں صاحب نے توجہ ہی نہیں دی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں